صحیح مسلم حدیث ۳۷۸۳ - آزادی دلانے والے کے لیے ولاء کا حق
بریرہ رضی اللہ عنہا کی روایت: ولاء، ہدیہ اور اختیار
صحیح مسلم : ۳۷۸۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۷۸۳
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْقَاسِمَ ، يُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا أَرَادَتْ أَنْ تَشْتَرِيَ بَرِيرَةَ لِلْعِتْقِ ، فَاشْتَرَطُوا وَلَاءَهَا ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " اشْتَرِيهَا وَأَعْتِقِيهَا ، فَإِنَّ الْوَلَاءَ لِمَنْ أَعْتَقَ " ، وَأُهْدِيَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَحْمٌ ، فَقَالُوا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هَذَا تُصُدِّقَ بِهِ عَلَى بَرِيرَةَ ، فَقَالَ : " هُوَ لَهَا صَدَقَةٌ وَهُوَ لَنَا هَدِيَّةٌ " ، وَخُيِّرَتْ ، فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ : وَكَانَ زَوْجُهَا حُرًّا ، قَالَ شُعْبَةُ : ثُمَّ سَأَلْتُهُ عَنْ زَوْجِهَا ، فَقَالَ : لَا أَدْرِي .
عائشہ روایت:
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے قصد کیا بریرہ کو خریدنے کا آزاد کرنے کے لیے لیکن اس کے مالکوں نے ولاء کی شرط لگائی اپنے لیے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خرید کر آزاد کر دو۔ ولاء اسی کو ملے گی جو آزاد کرے۔“ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حصہ آیا گوشت کا لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ! یہ گوشت صدقہ میں ملا ہے بریرہ کو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے لیے وہ صدقہ ہے اور ہمارے لیے ہدیہ ہے۔“ اور بریرہ کو اختیار دیا گیا تھا اس کے خاوند کے مقدمہ میں، عبدالرحمٰن نے کہا: اس کا خاوند آزاد تھا۔شعبہ نے کہا: پھر میں نے عبدالرحمٰن سے اس کے خاوند کا حال پوچھا انہوں نے کہا: مجھ کو معلوم نہیں ہے (تو آزاد ہونے کی روایت قابل اعتبار کے نہ رہی۔
صحیح مسلم حدیث ۳۷۸۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کا ارادہ بیان ہوا کہ وہ بریرہ رضی اللہ عنہا کو خرید کر آزاد کریں۔ ان کے مالکوں نے ولاء اپنے لیے شرط کیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خرید کر آزاد کر دو، کیونکہ ولاء اسی کو ملے گی جو آزاد کرے۔ یہی اس روایت کا بڑا سبق ہے۔ پھر گوشت کا ذکر آیا جو بریرہ رضی اللہ عنہا کو صدقہ میں ملا تھا۔ جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو بتایا گیا کہ یہ بریرہ کو صدقہ دیا گیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ ان کے لیے صدقہ ہے اور ہمارے لیے ہدیہ ہے۔ روایت کے آخر میں شوہر کے بارے میں راوی کے علم کی احتیاط بھی آتی ہے؛ ایک بات کہی گئی، پھر سوال پر کہا گیا کہ مجھے معلوم نہیں۔ اس سے نقلِ حدیث میں احتیاط سمجھ آتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ولاء آزاد کرنے والے کا حق ہے، چاہے دوسرا شخص شرط لگائے۔
- صدقہ مستحق کے پاس آ کر اس کی ملکیت بن جاتا ہے، پھر وہ ہدیہ دے سکتا ہے۔
- راوی نے جس بات کا پکا علم نہ رہا، وہاں صاف کہا کہ مجھے معلوم نہیں۔
- بریرہ رضی اللہ عنہا کو شوہر کے معاملے میں اختیار دیا گیا تھا۔
