صحیح مسلم حدیث ۳۷۹۱ - اپنے موالی کی اجازت کے بغیر ولاء اختیار کرنا
موالی کی اجازت کے بغیر ولاء بدلنے کی وعید
صحیح مسلم : ۳۷۹۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۷۹۱
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيَّ ، عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ تَوَلَّى قَوْمًا بِغَيْرِ إِذْنِ مَوَالِيهِ ، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ ، وَالْمَلَائِكَةِ ، لَا يُقْبَلُ مِنْهُ عَدْلٌ ، وَلَا صَرْفٌ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص کسی کو مولیٰ بنائے بغیر اجازت اپنے مالکوں کے اس پر لعنت ہے اللہ اور اس کے فرشتوں کی نہ اس کا فرض قبول ہو گا نہ نفل۔“
صحیح مسلم حدیث ۳۷۹۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنے مالکوں یا موالی کی اجازت کے بغیر کسی قوم کو مولیٰ بنائے، اس پر اللہ اور فرشتوں کی لعنت ہے، اور اس کا فرض یا نفل قبول نہیں ہو گا۔ حدیث کے الفاظ سخت ہیں، اس لیے اس کا بیان بھی سنجیدگی کے ساتھ کرنا چاہیے۔ یہاں اصل بات ولاء کے تعلق کو اپنی مرضی سے بدلنے یا دوسروں کی طرف نسبت کرنے کی ممانعت ہے۔ یہ کوئی عام سماجی پسند ناپسند کا معاملہ نہیں، بلکہ حقوق اور نسبت کا مسئلہ ہے۔ حدیث ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ دینی اور قانونی تعلقات کو غلط طریقے سے بدلنا بڑی خرابی کا سبب بنتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اپنے موالی کی اجازت کے بغیر ولاء بدلنے پر سخت وعید آئی ہے۔
- روایت میں اللہ اور فرشتوں کی لعنت کا ذکر ہے۔
- حدیث میں فرض اور نفل قبول نہ ہونے کی وعید بھی بیان ہوئی۔
- نسبت اور حق کے معاملے میں سچائی ضروری ہے۔
