صحیح مسلم حدیث ۳۷۹۳ - غیر موالی کی طرف نسبت کی ممانعت
غیر موالی کی طرف ولاء جوڑنا درست نہیں
صحیح مسلم : ۳۷۹۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۷۹۳
وحَدَّثَنِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ دِينَارٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : وَمَنْ وَالَى غَيْرَ مَوَالِيهِ بِغَيْرِ إِذْنِهِمْ .
اس سند سے بھی مذکورہ بالا حدیث روایت کی گئی ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۳۷۹۳ کا خلاصہ
یہ روایت پچھلی حدیث ہی کی تائید کرتی ہے، مگر الفاظ میں یہ پہلو آتا ہے کہ جو شخص اپنے موالی کے سوا دوسروں سے ولاء جوڑے، وہ بھی اسی وعید میں داخل ہے۔ متن مختصر ہے اور کہتا ہے کہ اسی سند سے روایت کی گئی، البتہ الفاظ میں یہ تبدیلی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حدیث کے راوی صرف مضمون نہیں، لفظی فرق بھی محفوظ کرتے تھے۔ اصل پیغام صاف ہے: جس تعلق کا حق کسی کے ساتھ ہے، اسے غلط طریقے سے دوسری طرف منسوب نہ کیا جائے۔ ولاء کی حدیث میں یہ بات بار بار آتی ہے کہ آزاد کرنے والے اور موالی کے حق کو محفوظ رکھا جائے۔ یہاں بھی کوئی نیا حکم نہیں، بلکہ اسی اصول کو دوسری عبارت سے بیان کیا گیا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- یہ روایت پچھلی وعید کی تائید کرتی ہے۔
- الفاظ کے فرق کو بھی نقل کیا گیا ہے۔
- غیر موالی کی طرف نسبت کرنا درست نہیں بتایا گیا۔
- ولاء کے حق کو محفوظ رکھنا اس باب کا مرکزی سبق ہے۔
