حدیث ۳۷۹۴
صحیح مسلم : ۳۷۹۴
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۷۹۴
وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : خَطَبَنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ، فَقَالَ : مَنْ زَعَمَ أَنَّ عِنْدَنَا شَيْئًا نَقْرَؤُهُ إِلَّا كِتَابَ اللَّهِ ، وَهَذِهِ الصَّحِيفَةَ ، قَالَ : وَصَحِيفَةٌ مُعَلَّقَةٌ فِي قِرَابِ سَيْفِهِ ، فَقَدْ كَذَبَ فِيهَا أَسْنَانُ الْإِبِلِ ، وَأَشْيَاءُ مِنَ الْجِرَاحَاتِ وَفِيهَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْمَدِينَةُ حَرَمٌ مَا بَيْنَ عَيْرٍ إِلَى ثَوْرٍ ، فَمَنْ أَحْدَثَ فِيهَا حَدَثًا أَوْ آوَى مُحْدِثًا ، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ ، وَالْمَلَائِكَةِ ، وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ ، لَا يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَرْفًا ، وَلَا عَدْلًا ، وَذِمَّةُ الْمُسْلِمِينَ وَاحِدَةٌ يَسْعَى بِهَا أَدْنَاهُمْ ، وَمَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ ، أَوِ انْتَمَى إِلَى غَيْرِ مَوَالِيهِ ، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ ، وَالْمَلَائِكَةِ ، وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ ، لَا يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَرْفًا ، وَلَا عَدْلًا " .
ابراہیم تیمی نے سنا اپنے باپ سے، وہ کہتے تھے خطبہ پڑھا سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے تو فرمایا: جو شخص کہتا ہے کہ ہمارے پاس کوئی اور کتاب ہے جس کو ہم اہل بیت پڑھتے ہیں سوا اللہ تعالیٰ کی کتاب اور اس کتاب کے اور وہ ان کی تلوار کے میان میں تھی تو وہ جھوٹ بولتا ہے (اس سے رد ہو گیا رافضیوں کا خیال کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو وہ وہ باتیں بتائی تھیں جو کسی اور صحابی کو نہیں بتائیں) اس کتاب میں اونٹوں کی عمروں کا بیان تھا اور زخموں کی دیت کا اور اس میں یہ بھی تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مدینہ حرم ہے عیر سے لے کر ثور تک۔ (ثور تو مکہ میں ہے یہ غلطی ہے راوی کی ثور کے بدلے شاید احد صحیح ہو) جو شخص اس میں نئی بات نکالے یا کسی بدعتی کو ٹھکانا دے تو اس پر لعنت ہے اللہ کی، لعنت ہے اللہ کی فرشتوں کی، اور تمام لوگوں کی، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کا فرض قبول نہ کرے گا، نہ نفل اور مسلمانوں کا ذمہ ایک ہے ادنیٰ مسلمان بھی ذمہ لے سکتا ہے اور جو شخص اپنے باپ کے سوا اور کسی کو باپ بنائے یا اپنے مولیٰ کے سوا اور کسی کو مولیٰ بنائے تو اس پر لعنت ہے اللہ تعالیٰ کی اور فرشتوں کی اور سب لوگوں کی، قیامت کے دن اس کا فرض قبول ہو گا، نہ نفل۔“
