صحیح مسلم حدیث ۳۷۹۵ - مسلمان غلام آزاد کرنے کی فضیلت
غلام آزاد کرنے کی فضیلت: ہر عضو کے بدلے نجات
صحیح مسلم : ۳۷۹۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۷۹۵
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنَزِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدٍ وَهُوَ ابْنُ أَبِي هِنْدٍ ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي حَكِيم ، عَنْ سَعِيدِ ابْنِ مَرْجَانَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ أَعْتَقَ رَقَبَةً مُؤْمِنَةً ، أَعْتَقَ اللَّهُ بِكُلِّ إِرْبٍ مِنْهَا إِرْبًا مِنْهُ مِنَ النَّارِ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص آزاد کرے مسلمان غلام کو اللہ تعالیٰ اس کے ہر عضو کے بدلے آزاد کرنے والے کے ہر ایک عضو کو آزاد کرے گا جہنم سے۔“
صحیح مسلم حدیث ۳۷۹۵ کا خلاصہ
اس حدیث کا بنیادی موضوع عتق یعنی غلام آزاد کرنا ہے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کسی مؤمن غلام کو آزاد کرے، اللہ تعالیٰ اس غلام کے ہر عضو کے بدلے آزاد کرنے والے کے ہر عضو کو آگ سے آزاد کرے گا۔ حدیث کا پیغام بہت سیدھا ہے: کسی انسان کو غلامی سے آزاد کرنا بڑی نیکی ہے۔ یہاں لفظ مؤمن غلام آیا ہے، اس لیے توضیح بھی اسی حد تک رہنی چاہیے۔ حدیث میں جس اجر کا ذکر ہے وہ آزاد کرنے کے عمل سے جڑا ہے، اور اس میں جسم کے ہر عضو کے بدلے نجات کی بات بیان ہوئی ہے۔ یہ روایت دل میں رحم، سخاوت، اور انسان کو آزادی دلانے کی قدر پیدا کرتی ہے، مگر ہم اس سے وہ باتیں نہیں نکالتے جو متن میں نہیں آئیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مؤمن غلام آزاد کرنا بڑی فضیلت والا عمل بتایا گیا ہے۔
- حدیث میں ہر عضو کے بدلے آگ سے آزادی کا ذکر آیا ہے۔
- نیکی کا تعلق عملی قدم سے ہے، صرف خواہش سے نہیں۔
- انسان کو آزادی دلانا رحم اور خیر کا کام ہے۔
