صحیح مسلم حدیث ۳۸۱۰ - جاہلیت کی حبل الحبلہ بیع سے ممانعت
حبل الحبلہ کا مطلب: جاہلیت کی غیر واضح بیع
صحیح مسلم : ۳۸۱۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۸۱۰
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ الْقَطَّانُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " كَانَ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ يَتَبَايَعُونَ لَحْمَ الْجَزُورِ إِلَى حَبَلِ الْحَبَلَةِ ، وَحَبَلُ الْحَبَلَةِ : أَنْ تُنْتَجَ النَّاقَةُ ، ثُمَّ تَحْمِلَ الَّتِي نُتِجَتْ ، فَنَهَاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ " .
عبداللہ بن عمر روایت:
جاہلیت کے لوگ اونٹ کا گوشت بیچتے تھے حبل الحبلہ تک اور حبل الحبلہ یہ ہے کہ اونٹنی جنے، پھر اس کا بچہ حاملہ ہو اور وہ جنے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا اس سے۔
صحیح مسلم حدیث ۳۸۱۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں حبل الحبلہ کی بیع کی وضاحت خود روایت کے اندر موجود ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جاہلیت کے لوگ اونٹ کا گوشت حبل الحبلہ تک بیچتے تھے۔ متن میں بتایا گیا کہ حبل الحبلہ یہ ہے کہ اونٹنی جنے، پھر اس کا بچہ حاملہ ہو اور وہ جنے۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے اس سے منع فرمایا۔ اس سے سادہ سبق یہ ملتا ہے کہ سودا ایسی دور کی، غیر یقینی اور غیر واضح مدت پر نہ ہو جس کا انجام معلوم نہیں۔ حبل الحبلہ کا مطلب، حمل کی بیع، اور بیع غرر کی مثال جیسے سوالات کے جواب میں یہ حدیث بہت اہم ہے۔ یہاں اضافی پس منظر لانے کی ضرورت نہیں، کیونکہ روایت خود وجہ سمجھا دیتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- غیر یقینی مدت پر سودا کرنا حدیث میں منع آیا ہے۔
- جاہلیت کے ایک خاص طریقہ بیع سے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے روکا۔
- بیع میں شرط ایسی ہو جو صاف اور قابل سمجھ ہو۔
