صحیح مسلم حدیث ۳۸۱۶ - تجارت اور گھر کے معاملات میں انصاف
بازار اور گھر کے حقوق: دھوکے اور مداخلت سے بچنے کی حدیث
صحیح مسلم : ۳۸۱۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۸۱۶
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَدِيٍّ وَهُوَ ابْنُ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَهَى عَنِ التَّلَقِّي لِلرُّكْبَانِ ، وَأَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ ، وَأَنْ تَسْأَلَ الْمَرْأَةُ طَلَاقَ أُخْتِهَا ، وَعَنِ النَّجْشِ وَالتَّصْرِيَةِ ، وَأَنْ يَسْتَامَ الرَّجُلُ عَلَى سَوْمِ أَخِيهِ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا سواروں سے جا کر ملنے سے (جو غلہ لاتے ہیں) اور شہری کو باہر والے کا مال بیچنے سے اور ایک سوکن کو دوسری سوکن کے لیے طلاق چاہنے سے اور دھوکہ دینے سے اور تھن میں دودھ روکنے سے اور ایک بھائی کے مول تول پر مول کرنے سے۔
صحیح مسلم حدیث ۳۸۱۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کئی ممانعتیں ایک جگہ آئی ہیں۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے سواروں سے جا کر ملنے سے منع کیا، شہری کو باہر والے کا مال بیچنے سے روکا، ایک سوکن کو دوسری سوکن کے لیے طلاق چاہنے سے منع فرمایا، دھوکہ دینے یعنی نجش سے روکا، تھن میں دودھ روکنے سے منع کیا، اور ایک بھائی کے مول تول پر مول کرنے سے بھی منع فرمایا۔ متن سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام صرف عبادت ہی نہیں بلکہ بازار اور گھر کے معاملات میں بھی انصاف چاہتا ہے۔ یہاں اصل بات دھوکے، بے جا دخل، دوسرے کے حق کو متاثر کرنے اور بناوٹی طریقے سے فائدہ لینے سے بچنا ہے۔ نجش، تصریہ، قافلہ سے ملنا اور بھائی کی بولی پر بولی اس حدیث کے اہم موضوعات ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بازار میں دھوکہ دینے والے طریقوں سے بچنا چاہیے۔
- گھر کے معاملے میں بھی دوسرے کے حق کو نقصان پہنچانے والی بات سے روکا گیا۔
- مول تول میں بھائی کے معاملے کا لحاظ رکھنا چاہیے۔
