حدیث ۳۸۱۵
صحیح مسلم : ۳۸۱۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۸۱۵
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا يُتَلَقَّى الرُّكْبَانُ لِبَيْعٍ ، وَلَا يَبِعْ بَعْضُكُمْ عَلَى بَيْعِ بَعْضٍ ، وَلَا تَنَاجَشُوا ، وَلَا يَبِعْ حَاضِرٌ لِبَادٍ ، وَلَا تُصَرُّوا الْإِبِلَ وَالْغَنَمَ ، فَمَنِ ابْتَاعَهَا بَعْدَ ذَلِكَ ، فَهُوَ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ بَعْدَ أَنْ يَحْلُبَهَا ، فَإِنْ رَضِيَهَا أَمْسَكَهَا وَإِنْ سَخِطَهَا رَدَّهَا وَصَاعًا مِنْ تَمْرٍ " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قافلہ سے نہ ملو بیع کے لیے۔ اور نہ بیچے کوئی تم میں سے دوسرے کی بیع پر اور نہ لاڑیا پن کرو۔ اور نہ بیچے شہر والا باہر والے کے مال کو اور نہ بند رکھو تھن میں دودھ اونٹ کا یا بکری کا پھر کوئی خریدے ایسے جانور کو (جس کا دودھ تھن میں رکھا گیا ہو دھوکا دینے کے لیے) تو خریدنے والے کو اختیار ہے (جب وہ دودھ دوہے اور اس کو معلوم ہو کہ دودھ اتنا نہیں نکلا جتنا گمان تھا) دونوں میں سے جو بھلا معلوم ہو وہ دوہنے کے بعد اس کو کرے اگر پسند آئے تو رکھ لے اور جو ناپسند ہو تو وہ جانور واپس کر دے اور ایک صاع کھجور کا دودھ کے بدلے پھیر دے۔“
