صحیح مسلم حدیث ۳۸۲۱ - بازار سے پہلے سوداگر سے ملنے کی ممانعت
تلقی بیوع کی حدیث: بازار سے پہلے سوداگر سے ملنے کا حکم
صحیح مسلم : ۳۸۲۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۸۲۱
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُبَارَكٍ ، عَنْ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ : " نَهَى عَنْ تَلَقِّي الْبُيُوعِ " .
عبداللہ روایت:
منع کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آگے جا کر سوداگروں سے ملنے کو۔
صحیح مسلم حدیث ۳۸۲۱ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع بیع و تجارت میں صاف معاملہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آگے جا کر سوداگروں سے ملنے سے منع فرمایا۔ آسان الفاظ میں، جب کوئی تاجر اپنا مال لے کر بازار کی طرف آ رہا ہو تو راستے میں جا کر اس سے سودا کرنا درست طریقہ نہیں بتایا گیا۔ اس سے بازار کا عام بھاؤ سامنے آنے سے پہلے معاملہ ہو جاتا ہے۔ اس لیے یہ حدیث تلقی بیوع، تلقي الركبان اور بازار کی حدیث جیسے موضوعات سے جڑی ہے۔ اس میں ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ خرید و فروخت میں جلد بازی، چالاکی یا دوسروں سے پہلے فائدہ اٹھانے کی سوچ سے بچنا چاہیے۔ بازار میں معاملہ کھلے انداز سے ہو تو خریدار، بیچنے والا اور عام لوگ سب بہتر طور پر اپنا حق سمجھ سکتے ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بازار پہنچنے سے پہلے سوداگروں سے مل کر خرید و فروخت کرنے سے منع کیا گیا ہے۔
- تجارت میں کھلا اور صاف معاملہ پسندیدہ ہے۔
- خرید و فروخت میں ایسی جلدی سے بچنا چاہیے جس سے دوسرے فریق کو نقصان کا اندیشہ ہو۔
