صحیح مسلم حدیث ۳۸۲۲ - کھیپ سے آگے جا کر ملنے کی ممانعت

تلقي الجلب کی حدیث: مال کی کھیپ سے پہلے ملنا کیوں منع ہے

صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۸۲۲

حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُتَلَقَّى الْجَلَبُ " .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا آگے جا کر کھیپ سے ملنے کو۔

صحیح مسلم حدیث ۳۸۲۲ کا خلاصہ

اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آگے جا کر کھیپ سے ملنے سے منع فرمایا۔ یہاں کھیپ سے مراد وہ مال ہے جو بیچنے کے لیے بازار لایا جا رہا ہو۔ عام فہم بات یہ ہے کہ مال لانے والا ابھی بازار کے بھاؤ سے واقف نہیں ہوتا۔ اگر کوئی شخص راستے میں جا کر اس سے معاملہ کر لے تو بیچنے والے کو اصل قیمت کا اندازہ نہ ہو سکے۔ اسی لیے یہ حدیث تلقي الجلب، بازار کا بھاؤ اور خرید و فروخت کے آداب کے بارے میں بہت اہم مضمون رکھتی ہے۔ حدیث کا پیغام یہ ہے کہ تجارت صرف اپنے فائدے کا نام نہیں، بلکہ دوسرے کے حق کا خیال بھی اس میں شامل ہے۔ معاملہ بازار میں پہنچ کر ہو تو قیمت زیادہ واضح ہوتی ہے اور فریقین کے لیے بات سمجھنا آسان رہتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • مال کی کھیپ کو بازار سے پہلے جا کر روکنے سے منع کیا گیا ہے۔
  • بیچنے والے کو بازار کے بھاؤ تک پہنچنے کا موقع ملنا چاہیے۔
  • تجارت میں دوسرے فریق کی ناواقفیت سے فائدہ اٹھانے سے بچنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں