صحیح مسلم حدیث ۳۸۲۳ - بازار پہنچنے کے بعد بیچنے والے کا اختیار

تلقي الجلب کی حدیث: بازار آنے کے بعد مالک کا اختیار

صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۸۲۳

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي هِشَامٌ الْقُرْدُوسِيُّ ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا تَلَقَّوْا الْجَلَبَ ، فَمَنْ تَلَقَّاهُ ، فَاشْتَرَى مِنْهُ ، فَإِذَا أَتَى سَيِّدُهُ السُّوقَ ، فَهُوَ بِالْخِيَارِ " .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مت ملو آگے جا کر مالوں کی کھیپ سے (جب تک وہ بازار میں نہ آئیں اور مال والوں کو بازار کا بھاؤ معلوم نہ ہو) اگر کوئی آگے جا کر ملے اور مال خرید لے پھر مال کا مالک آئے (اور بھاؤ کے دریافت میں معلوم ہو کہ اس کو نقصان ہوا ہے) تو اس کو اختیار ہے۔“ (چاہے تو بیع فسخ کر ڈالے)۔

صحیح مسلم حدیث ۳۸۲۳ کا خلاصہ

اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مال کی کھیپ سے آگے جا کر نہ ملو۔ پھر یہ بھی بتایا کہ اگر کسی نے ایسا کیا اور مال خرید لیا، پھر مال کا مالک بازار پہنچا، تو اسے اختیار ہے۔ اس سے صاف سمجھ آتا ہے کہ حدیث کا مقصد بیچنے والے کے حق کو نظر انداز نہیں ہونے دینا ہے۔ جب وہ بازار آتا ہے تو اسے اصل بھاؤ کا اندازہ ہو سکتا ہے۔ اگر پہلے معاملے میں اسے نقصان محسوس ہو تو حدیث کے الفاظ کے مطابق اس کے لیے اختیار رکھا گیا۔ یہ موضوع خیار، بازار کا بھاؤ، تلقي الجلب اور خرید و فروخت میں انصاف سے جڑا ہے۔ اس حدیث میں تاجر کے لیے بڑی سادہ نصیحت ہے کہ معاملہ ایسا ہو جس میں دوسرے کو بعد میں پچھتاوا نہ ہو۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • کھیپ سے بازار سے پہلے جا کر سودا کرنے سے منع کیا گیا ہے۔
  • اگر ایسا سودا ہو جائے تو مال کے مالک کو بازار پہنچنے کے بعد اختیار دیا گیا ہے۔
  • خرید و فروخت میں قیمت کی معلومات اور فریقین کا حق اہم ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں