صحیح مسلم حدیث ۳۸۲۴ - بستی والا باہر والے کا مال نہ بیچے
بیع حاضر لباد کی حدیث: شہر والا باہر والے کا مال نہ بیچے
صحیح مسلم : ۳۸۲۴
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۸۲۴
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا يَبِعْ حَاضِرٌ لِبَادٍ " . وقَالَ زُهَيْرٌ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ نَهَى أَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہ بیچے بستی والا باہر والے کا مال۔“
صحیح مسلم حدیث ۳۸۲۴ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع بیع حاضر لباد ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بستی والا باہر والے کا مال نہ بیچے۔ آسان زبان میں، جو شخص باہر سے اپنا مال لے کر آئے، اسے اپنا معاملہ خود کرنے دیا جائے۔ شہر یا بستی کا رہنے والا اس کے لیے بیچنے والا نہ بنے۔ اس حدیث میں بازار کے فطری طریقے کو باقی رکھنے کی بات آتی ہے۔ جب باہر والا خود بیچے گا تو لوگ براہ راست خرید سکیں گے، اور معاملہ عام بازار کے ماحول میں ہوگا۔ یہ حدیث دلالی، بازار، تجارت اور خرید و فروخت کے آداب سے متعلق ہے۔ اس کا پیغام یہ ہے کہ کاروبار میں ایسے طریقے سے بچنا چاہیے جس سے عام لوگوں کے لیے معاملہ مشکل ہو یا قیمتوں پر غیر ضروری اثر پڑے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بستی والے کو باہر والے کا مال بیچنے سے منع کیا گیا ہے۔
- باہر سے آنے والے کو اپنا مال خود بیچنے دیا جائے۔
- بازار کے معاملے میں عام لوگوں کے فائدے کا خیال رکھا گیا ہے۔
