صحیح مسلم حدیث ۳۸۲۵ - سواروں سے آگے ملنا اور دلالی کی ممانعت

تلقي الركبان اور بیع حاضر لباد: دلال بننے سے متعلق حدیث

صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۸۲۵

وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُتَلَقَّى الرُّكْبَانُ ، وَأَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ " . قَالَ : فَقُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ : مَا قَوْلُهُ حَاضِرٌ لِبَادٍ ، قَالَ : لَا يَكُنْ لَهُ سِمْسَارًا .

عبداللہ بن عباس روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا سواروں کی آگے جا کر ملاقات سے منع کیا (جو مال لے کر آئیں)، بستی والے کو باہر والے کا مال بیچنے سے۔ طاؤس نے کہا: میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا: اس کا کیا مطلب ہے؟ انہوں نے کہا: بستی والے کو نہیں چاہئیے کہ باہر والے کا دلال بنے (اس کا مال بکوانے میں بلکہ اس کو خود بیچنے دے)۔

صحیح مسلم حدیث ۳۸۲۵ کا خلاصہ

اس حدیث میں دو باتیں بیان ہوئی ہیں۔ پہلی یہ کہ مال لے کر آنے والے سواروں سے آگے جا کر ملاقات نہ کی جائے۔ دوسری یہ کہ بستی والا باہر والے کا مال نہ بیچے۔ طاؤس رحمہ اللہ نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس کا مطلب پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ بستی والا باہر والے کا دلال نہ بنے۔ اس سے حدیث کا مطلب بہت صاف ہو جاتا ہے۔ باہر سے آنے والا اپنا مال خود بیچے، اور راستے میں جا کر اس سے پہلے معاملہ نہ کیا جائے۔ یہ حدیث تلقي الركبان، بیع حاضر لباد، سمسار اور دلالی کی حدیث کے طور پر سرچ کی جاتی ہے۔ اس میں خرید و فروخت کا ایسا انداز بتایا گیا ہے جس میں کھلا بازار، صاف قیمت اور دوسرے فریق کا حق سامنے رہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • مال لانے والے سواروں سے بازار سے پہلے جا کر ملنے سے منع کیا گیا ہے۔
  • بستی والے کو باہر والے کا دلال بننے سے منع کیا گیا ہے۔
  • خرید و فروخت میں بیچنے والے کو اپنا معاملہ خود کرنے کا موقع ملنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں