صحیح مسلم حدیث ۳۸۲۶ - لوگوں کو چھوڑ دو، اللہ رزق دیتا ہے
دعوا الناس یرزق اللہ: بیع حاضر لباد کی آسان شرح
صحیح مسلم : ۳۸۲۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۸۲۶
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيي التَّمِيمِيُّ ، أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ . ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَبِعْ حَاضِرٌ لِبَادٍ دَعُوا النَّاسَ يَرْزُقْ اللَّهُ بَعْضَهُمْ مِنْ بَعْضٍ " ، غَيْرَ أَنَّ فِي رِوَايَةِ يَحْيَى : يُرْزَقُ .
جابر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مت بیچے شہر والا باہر والے کا مال بلکہ چھوڑ دو لوگوں کو اللہ روٹی دیتا ہے ایک کو ایک سے۔“
صحیح مسلم حدیث ۳۸۲۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ شہر والا باہر والے کا مال نہ بیچے، بلکہ لوگوں کو چھوڑ دو، اللہ ایک کو ایک سے روزی دیتا ہے۔ یہ الفاظ بہت سادہ مگر گہرا عملی سبق دیتے ہیں۔ بازار میں ہر شخص کو اپنا معاملہ کرنے کا موقع ملے۔ باہر سے آنے والا اپنا مال لے کر آئے اور خود بیچے، لوگ اس سے خریدیں، اور اللہ جس کے لیے جتنا رزق چاہے راستہ بنا دے۔ اس حدیث کو بیع حاضر لباد، دعوا الناس یرزق اللہ اور تجارت میں رزق کی حدیث کے طور پر تلاش کیا جاتا ہے۔ اس میں بے جا بیچ بچاؤ، دلالی اور بازار کے معاملے میں غیر ضروری دخل سے بچنے کی بات ہے۔ حدیث ہمیں یاد دلاتی ہے کہ رزق کے معاملے میں انسان کو صاف طریقہ اختیار کرنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- شہر والے کو باہر والے کا مال بیچنے سے منع کیا گیا ہے۔
- لوگوں کو کھلے طور پر خرید و فروخت کرنے دی جائے۔
- رزق اللہ دیتا ہے، اس لیے معاملہ صاف اور سیدھا ہونا چاہیے۔
