صحیح مسلم حدیث ۳۸۲۸ - بھائی یا باپ کا مال بھی نہ بیچے

بیع حاضر لباد: رشتہ داری کے باوجود ممانعت

صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۸۲۸

وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " نُهِينَا أَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ ، وَإِنْ كَانَ أَخَاهُ أَوْ أَبَاهُ " .

انس بن مالک روایت:

ہم منع کئے گئے اس بات سے کہ بستی والا باہر والے کے مال کو بیچے اگرچہ اس کا بھائی یا باپ ہو۔

صحیح مسلم حدیث ۳۸۲۸ کا خلاصہ

اس حدیث میں سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہمیں منع کیا گیا کہ بستی والا باہر والے کا مال بیچے، اگرچہ وہ اس کا بھائی یا باپ ہی کیوں نہ ہو۔ یہ بات حدیث کے مضمون کو اور واضح کرتی ہے۔ معاملہ صرف اجنبی لوگوں تک محدود نہیں، بلکہ قریبی رشتہ دار کے لیے بھی یہی بات بیان ہوئی ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ باہر سے آنے والا اپنا مال خود بازار میں پیش کرے۔ یہ حدیث بیع حاضر لباد، رشتہ داری میں تجارت، دلالی اور بازار کے اصول کے بارے میں ہے۔ عام زندگی میں بعض اوقات آدمی اپنے قریبی کے لیے سودا سنبھالنا چاہتا ہے، مگر اس روایت میں خاص طور پر بتایا گیا کہ اس صورت میں بھی بستی والا باہر والے کا مال نہ بیچے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • بستی والا باہر والے کا مال نہ بیچے، چاہے وہ قریبی رشتہ دار ہو۔
  • رشتہ داری اس ممانعت کو ختم نہیں کرتی۔
  • بازار میں باہر سے آنے والے کو اپنا مال خود بیچنے دیا جائے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں