صحیح مسلم حدیث ۳۸۲۹ - بستی والے کی طرف سے باہر والے کا مال بیچنا

حاضر لباد کی حدیث: بستی والا باہر والے کا مال نہ بیچے

صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۸۲۹

حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَنَسٍ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُعَاذٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ : " نُهِينَا عَنْ أَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ " .

انس بن مالک روایت:

منع کیے گئے ہم اس بات سے کہ بستی والا باہر والے کا مال بیچے۔

صحیح مسلم حدیث ۳۸۲۹ کا خلاصہ

یہ روایت مختصر ہے مگر اس کا پیغام صاف ہے۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہمیں منع کیا گیا کہ بستی والا باہر والے کا مال بیچے۔ یہاں بیع حاضر لباد کا وہی مسئلہ ہے جو بازار، دلالی اور خرید و فروخت کے صاف طریقے سے تعلق رکھتا ہے۔ باہر سے آنے والا جب اپنا مال لے کر آئے تو اسے خود بیچنے دیا جائے۔ بستی کا آدمی اس کا بیچنے والا نہ بنے۔ اس سے بازار میں براہ راست معاملہ رہتا ہے اور لوگوں کے لیے خریدنے کا موقع کھلا رہتا ہے۔ یہ حدیث ہر اس شخص کے لیے نصیحت ہے جو کاروبار میں دوسروں کے مال کو اپنے انداز سے بیچنے کی کوشش کرتا ہے، جبکہ حدیث میں اس صورت سے منع کیا گیا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • بستی والے کو باہر والے کا مال بیچنے سے منع کیا گیا ہے۔
  • بازار کا معاملہ براہ راست اور صاف رہنا چاہیے۔
  • خرید و فروخت میں غیر ضروری دلالی سے بچنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں