صحیح مسلم حدیث ۳۸۳۰ - دودھ چڑھی بکری خریدنے کا حکم
مصراۃ بکری کی حدیث: دودھ دوہنے کے بعد خریدار کا اختیار
صحیح مسلم : ۳۸۳۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۸۳۰
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنِ اشْتَرَى شَاةً مُصَرَّاةً ، فَلْيَنْقَلِبْ بِهَا فَلْيَحْلُبْهَا ، فَإِنْ رَضِيَ حِلَابَهَا أَمْسَكَهَا ، وَإِلَّا رَدَّهَا وَمَعَهَا صَاعٌ مِنْ تَمْرٍ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص دودھ چڑھی ہوئی بکری خریدے پھر جا کر اس کا دودھ نچوڑے اگر اس کا دودھ پسند آئے رکھ چھوڑے، نہیں تو بکری پھیر دے اور دے ایک صاع کھجور کا اس کے ساتھ۔“ (دودھ کے بدلے)۔
صحیح مسلم حدیث ۳۸۳۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ چڑھی ہوئی بکری خریدنے کے بارے میں حکم بیان فرمایا۔ اگر کوئی شخص ایسی بکری خریدے، پھر جا کر اس کا دودھ دوہے، تو اگر دودھ پسند آئے اسے رکھ سکتا ہے۔ اگر پسند نہ آئے تو بکری واپس کر دے اور اس کے ساتھ ایک صاع کھجور دے۔ یہ حدیث مصراۃ بکری، دودھ چڑھی بکری اور خرید و فروخت میں خیار کے موضوع پر ہے۔ اس میں خریدار کے لیے بھی آسانی ہے اور بیچنے والے کے حق کا بھی خیال ہے، کیونکہ دودھ استعمال ہو چکا ہوتا ہے۔ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ معاملہ پسند نہ آنے کی صورت میں واپسی کا طریقہ بھی صاف ہونا چاہیے۔ خرید و فروخت میں اطمینان، حق اور ذمہ داری تینوں باتیں سامنے رہتی ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دودھ چڑھی ہوئی بکری خریدنے کے بعد خریدار دودھ دیکھ کر فیصلہ کر سکتا ہے۔
- پسند آنے پر بکری رکھ سکتا ہے، پسند نہ آنے پر واپس کر سکتا ہے۔
- واپسی کی صورت میں ایک صاع کھجور ساتھ دینے کا حکم بیان ہوا ہے۔
