صحیح مسلم حدیث ۳۸۳۱ - مصراۃ بکری میں تین دن کا اختیار
مصراۃ بکری کی حدیث: تین دن کا اختیار
صحیح مسلم : ۳۸۳۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۸۳۱
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيَّ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنِ ابْتَاعَ شَاةً مُصَرَّاةً ، فَهُوَ فِيهَا بِالْخِيَارِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ ، إِنْ شَاءَ أَمْسَكَهَا ، وَإِنْ شَاءَ رَدَّهَا وَرَدَّ مَعَهَا صَاعًا مِنْ تَمْرٍ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص دودھ چڑھی ہوئی بکری خریدے اس کو تین روز تک اختیار ہے چاہے اس کو رکھ چھوڑے چاہے پھیر دے اور اس کے ساتھ صاع کھجور کا بھی دے۔“
صحیح مسلم حدیث ۳۸۳۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص دودھ چڑھی ہوئی بکری خریدے، اسے تین دن تک اختیار ہے۔ چاہے اسے رکھ لے، چاہے واپس کر دے، اور واپسی کے ساتھ ایک صاع کھجور دے۔ یہاں تین دن کا ذکر خاص طور پر آیا ہے، اس لیے اس روایت کا مرکزی موضوع خرید و فروخت میں خیار ہے۔ عام فہم انداز میں یہ بات سمجھ آتی ہے کہ خریدار کو اتنا وقت دیا گیا کہ وہ بکری کے دودھ کی حالت کو دیکھ سکے۔ اگر وہ مطمئن ہو تو سودا باقی رکھے، ورنہ واپس کرے۔ یہ حدیث مصراۃ، دودھ چڑھی بکری، تین دن کا اختیار اور صاع کھجور جیسے سرچ الفاظ سے جڑی ہے۔ معاملہ پسند نہ آئے تو واپسی بھی انصاف کے ساتھ ہو، یہی اس حدیث کا سادہ سبق ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مصراۃ بکری کے خریدار کو تین دن تک اختیار دیا گیا ہے۔
- خریدار چاہے تو بکری رکھ سکتا ہے اور چاہے تو واپس کر سکتا ہے۔
- واپسی کی صورت میں ایک صاع کھجور دینے کا حکم بیان ہوا ہے۔
