صحیح مسلم حدیث ۳۸۳۲ - دودھ چڑھی بکری کی واپسی اور اناج

مصراۃ بکری: واپسی پر ایک صاع اناج کا حکم

صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۸۳۲

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَبَلَةَ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ يَعْنِي الْعَقَدِيَّ ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنِ اشْتَرَى شَاةً مُصَرَّاةً ، فَهُوَ بِالْخِيَارِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ ، فَإِنْ رَدَّهَا رَدَّ مَعَهَا صَاعًا مِنْ طَعَامٍ لَا سَمْرَاءَ " .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص تھن میں دودھ چڑھی ہوئی بکری خریدے اس کو تین دن تک اختیار ہے اگر پھیر دے تو صاع اناج کا بھی دے لیکن گیہوں دینا ضروری نہیں۔“

صحیح مسلم حدیث ۳۸۳۲ کا خلاصہ

اس حدیث میں دودھ چڑھی ہوئی بکری کے خریدار کو تین دن تک اختیار دیا گیا ہے۔ اگر وہ بکری واپس کرے تو ساتھ ایک صاع اناج دے، اور حدیث کے الفاظ کے مطابق گیہوں دینا ضروری نہیں۔ اس روایت میں دو باتیں خاص طور پر سامنے آتی ہیں: پہلی، خریدار کو سوچنے اور دودھ کی حالت جانچنے کے لیے وقت دیا گیا۔ دوسری، اگر بکری واپس ہو تو دودھ کے بدلے ایک مقرر مقدار ساتھ دی جائے۔ یہ حدیث مصراۃ بکری، خیار، صاع طعام اور گیہوں لازم نہیں جیسے موضوعات میں آتی ہے۔ اس میں نہ خریدار کو بے سہارا چھوڑا گیا، نہ بیچنے والے کے استعمال شدہ دودھ کو نظر انداز کیا گیا۔ سودا واپس ہو تو بھی طریقہ واضح اور متوازن رکھا گیا۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • دودھ چڑھی بکری کے خریدار کو تین دن تک اختیار ہے۔
  • واپسی کی صورت میں ایک صاع اناج ساتھ دینے کا ذکر ہے۔
  • اس روایت میں گیہوں کو لازم قرار نہیں دیا گیا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں