صحیح مسلم حدیث ۳۸۳۳ - مصراۃ بکری اور صاع کھجور
مصراۃ بکری کی حدیث: رکھنا یا واپس کرنا
صحیح مسلم : ۳۸۳۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۸۳۳
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنِ اشْتَرَى شَاةً مُصَرَّاةً ، فَهُوَ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ إِنْ شَاءَ أَمْسَكَهَا ، وَإِنْ شَاءَ رَدَّهَا وَصَاعًا مِنْ تَمْرٍ لَا سَمْرَاءَ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص مصراۃ بکری خریدے تو اس کو اختیار ہے اگر چاہے رکھ لے چاہے پھیر دے اور ایک صاع کھجور کا بھی اس کے ساتھ دے نہ گیہوں کا۔“
صحیح مسلم حدیث ۳۸۳۳ کا خلاصہ
اس روایت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص مصراۃ بکری خریدے، اسے دو باتوں میں بہتر اختیار ہے۔ چاہے رکھ لے، چاہے واپس کر دے، اور واپس کرے تو ایک صاع کھجور ساتھ دے، گیہوں نہیں۔ یہ حدیث خرید و فروخت میں خیار کے معاملے کو بہت صاف انداز سے بیان کرتی ہے۔ خریدار کو مجبور نہیں کیا گیا کہ ہر حال میں سودا رکھے، بلکہ اسے دیکھنے کے بعد فیصلہ کرنے کی گنجائش دی گئی۔ اسی طرح اگر بکری واپس ہو تو دودھ کے استعمال کو بھی خالی نہیں چھوڑا گیا۔ یہ مضمون مصراۃ بکری حدیث، صاع کھجور، خیار اور دودھ چڑھی بکری کے حکم سے متعلق ہے۔ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ تجارت میں واپسی کا معاملہ بھی واضح اصول کے ساتھ ہونا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مصراۃ بکری خریدنے والے کو رکھنے یا واپس کرنے کا اختیار ہے۔
- واپس کرنے کی صورت میں ایک صاع کھجور ساتھ دینے کا حکم ہے۔
- اس روایت میں گیہوں کے بجائے کھجور کا ذکر کیا گیا ہے۔
