صحیح مسلم حدیث ۳۸۳۹ - ناپ لینے سے پہلے اناج نہ بیچے
ناپ تول کی حدیث: اناج ناپے بغیر آگے نہ بیچو
صحیح مسلم : ۳۸۳۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۸۳۹
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ إِسْحاَقُ : أَخْبَرَنَا ، وقَالَ الْآخَرَانِ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنِ ابْتَاعَ طَعَامًا فَلَا يَبِعْهُ حَتَّى يَكْتَالَهُ " ، فَقُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ : لِمَ ، فَقَالَ : أَلَا تُرَاهُمْ يَتَبَايَعُونَ بِالذَّهَبِ وَالطَّعَامُ مُرْجَأٌ ، وَلَمْ يَقُلْ أَبُو كُرَيْبٍ : مُرْجَأٌ .
عبداللہ بن عباس روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اناج خریدے وہ اس کو نہ بیچے جب تک ناپ نہ لے۔“ طاؤس نے کہا میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا: کیوں، اس کی کیا وجہ ہے؟ انہوں نے کہا: تم نہیں دیکھتے لوگوں کو اناج سونے اور چاندی کے بدلے میعاد پر بیچتے ہیں۔
صحیح مسلم حدیث ۳۸۳۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص اناج خریدے، وہ اسے نہ بیچے جب تک ناپ نہ لے۔ طاؤس رحمہ اللہ نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے وجہ پوچھی تو انہوں نے بتایا کہ لوگ اناج کو سونے چاندی کے بدلے میعاد پر بیچتے ہیں، جبکہ اناج مؤخر ہوتا ہے۔ اس روایت میں ناپ تول اور قبضہ کا پہلو خاص طور پر سامنے آتا ہے۔ اناج کا معاملہ صرف قیمت طے کر لینے سے مکمل نہیں ہوتا، بلکہ ناپ لینے کا مرحلہ بھی ضروری بتایا گیا۔ یہ حدیث اناج ناپنے کی حدیث، قبضہ سے پہلے فروخت اور خرید و فروخت میں ناپ تول کے نام سے تلاش کی جاتی ہے۔ اس سے کاروبار میں وضاحت آتی ہے اور آگے فروخت سے پہلے مال کی مقدار معلوم ہو جاتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اناج خریدنے کے بعد ناپ لینے سے پہلے اسے بیچنے سے منع کیا گیا ہے۔
- ناپ تول خرید و فروخت کی وضاحت کا اہم حصہ ہے۔
- سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مؤخر اناج کے معاملے کی طرف توجہ دلائی۔
