صحیح مسلم حدیث ۳۸۴۰ - پورا لینے تک اناج نہ بیچے
پورا قبضہ لینے تک اناج نہ بیچنے کی حدیث
صحیح مسلم : ۳۸۴۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۸۴۰
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ . ح وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنِ ابْتَاعَ طَعَامًا ، فَلَا يَبِعْهُ حَتَّى يَسْتَوْفِيَهُ " .
عبداللہ بن عمر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اناج خریدے وہ اس کو نہ بیچے جب تک اس کو پورا نہ لے لے۔“ (یعنی ناپ تول نہ لے اور اس پر قبضہ نہ کر لے)۔
صحیح مسلم حدیث ۳۸۴۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص اناج خریدے، وہ اسے اس وقت تک نہ بیچے جب تک اسے پورا نہ لے لے۔ اردو ترجمے میں وضاحت ہے کہ یعنی ناپ تول نہ لے اور اس پر قبضہ نہ کر لے۔ یہ حدیث خرید و فروخت کے بہت عملی مسئلے کو بیان کرتی ہے۔ آدمی پہلے اناج پورا لے، اس کی مقدار واضح ہو، قبضہ مکمل ہو، پھر آگے فروخت کرے۔ اس سے معاملہ مضبوط اور صاف رہتا ہے۔ یہ حدیث قبضہ سے پہلے فروخت، پورا ناپ تول، اناج کی بیع اور اسلامی کاروباری اصول کے نام سے سرچ کی جاتی ہے۔ اس میں تاجر کے لیے سادہ پیغام ہے کہ جو چیز ابھی پوری طرح اس کے پاس نہیں آئی، اسے آگے بیچنے میں جلدی نہ کرے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اناج کو پورا لینے سے پہلے آگے بیچنے سے منع کیا گیا ہے۔
- ناپ تول اور قبضہ مکمل ہونے کے بعد ہی آگے فروخت کی بات ہو۔
- تجارت میں جلدی کے بجائے صاف اور مکمل معاملہ اختیار کرنا چاہیے۔
