صحیح مسلم حدیث ۳۸۶۳ - پھل کی بیع
پھل کی صلاحیت ظاہر ہونے سے پہلے بیع کی ممانعت
صحیح مسلم : ۳۸۶۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۸۶۳
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ .
مندرجہ بالا روایت اس سند سے بھی مروی ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۳۸۶۳ کا خلاصہ
یہ روایت پچھلی حدیث ہی کے معنی کو دوسری سند سے بیان کرتی ہے۔ اصل مضمون یہ ہے کہ پھل کو اس وقت تک نہ بیچا جائے جب تک اس کی صلاحیت ظاہر نہ ہو جائے۔ اس طرح کی روایات ہمیں بتاتی ہیں کہ ایک ہی حکم مختلف راویوں کے ذریعے نقل ہو سکتا ہے، مگر عمل کے لیے پیغام وہی رہتا ہے۔ پھل کی بیع، درخت پر پھل بیچنا، اور خرید و فروخت میں احتیاط اس حدیث کے اہم الفاظ ہیں۔ عام زبان میں بات یہ ہے کہ کچا یا خطرے میں پڑا ہوا پھل بیچنا خریدار اور بیچنے والے دونوں کے لیے پریشانی کا سبب بن سکتا ہے۔ اس لیے سودا اسی وقت بہتر ہے جب پھل کی حالت معلوم ہو اور آفت کا ڈر کم ہو چکا ہو۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- درخت پر لگے پھل کی خرید و فروخت میں پختگی اور سلامتی کا انتظار کیا جائے۔
- بیچنے والے اور خریدار دونوں کو ایسے سودے سے بچنا چاہیے جس میں آفت کا خطرہ باقی ہو۔
- سودے میں جلدی کے بجائے چیز کی حالت صاف ہونے کو ترجیح دی جائے۔
