صحیح مسلم حدیث ۳۸۶۴ - پھل کی پختگی
کھجور اور بالی کی بیع: پختگی سے پہلے سودا نہیں
صحیح مسلم : ۳۸۶۴
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۸۶۴
وحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَهَى عَنْ بَيْعِ النَّخْلِ حَتَّى يَزْهُوَ ، وَعَنِ السُّنْبُلِ حَتَّى يَبْيَضَّ ، وَيَأْمَنَ الْعَاهَةَ ، نَهَى الْبَائِعَ وَالْمُشْتَرِيَ " .
عبداللہ بن عمر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کھجور کے بیچنے سے جب تک وہ لال یا زرد نہ ہو (کیونکہ جب سرخی یا زردی اس میں آ جاتی ہے تو سلامتی کا یقین ہو جاتا ہے) اس طرح منع فرمایا بالی کے بیچنے سے جب تک سفید نہ ہو اور آفت کا ڈر نہ جائے اور منع کیا بائع کو بیچنے سے اور خریدار کو خریدنے سے۔
صحیح مسلم حدیث ۳۸۶۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں پھل کی بیع کی ممانعت کو مزید صاف انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کو اس وقت تک بیچنے سے منع فرمایا جب تک وہ لال یا زرد نہ ہو جائے۔ اسی طرح بالی کو اس وقت تک بیچنے سے منع فرمایا جب تک وہ سفید نہ ہو اور آفت کا ڈر نہ چلا جائے۔ متن میں بیچنے والے اور خریدار دونوں کا ذکر ہے، اس لیے یہ حکم صرف ایک فریق تک محدود نہیں۔ اس روایت کا سادہ مطلب یہ ہے کہ خرید و فروخت میں چیز کی حالت واضح ہونی چاہیے۔ کچی کھجور، غیر واضح فصل، یا آفت کے خطرے والی چیز کا سودا بعد میں نقصان اور اختلاف کا سبب بن سکتا ہے۔ حدیث ہمیں تجارت میں جلد بازی کے بجائے صاف اور محفوظ معاملہ کرنے کا سبق دیتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- کھجور کی بیع میں سرخی یا زردی جیسی واضح علامت کا انتظار کیا جائے۔
- بالی کی بیع میں آفت کا خطرہ دور ہونا ضروری ہے۔
- خریدار اور بیچنے والا دونوں احتیاط کے ذمہ دار ہیں۔
