صحیح مسلم حدیث ۳۸۶۵ - پھل کی سلامتی
پھل کی سلامتی معلوم ہونے تک خرید و فروخت نہ کریں
صحیح مسلم : ۳۸۶۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۸۶۵
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ يَحْيَي بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَبْتَاعُوا الثَّمَرَ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهُ ، وَتَذْهَبَ عَنْهُ الْآفَةُ " ، قَالَ : " يَبْدُوَ صَلَاحُهُ حُمْرَتُهُ وَصُفْرَتُهُ " .
عبداللہ بن عمر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مت بیچو پھل کو درخت پر جب تک اس کی سلامتی معلوم نہ ہو جائے اور آفت کے جانے کا یقین ہو جائے۔“ سلامتی معلوم ہونے سے یہ غرض ہے کہ اس میں سرخی یا زردی نمودار ہو جائے۔
صحیح مسلم حدیث ۳۸۶۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھل کو اس وقت تک نہ خریدو جب تک اس کی صلاحیت ظاہر نہ ہو جائے اور اس سے آفت دور نہ ہو جائے۔ اسی روایت میں یہ بھی بتایا گیا کہ صلاحیت ظاہر ہونے سے مراد اس کا سرخ یا زرد ہونا ہے۔ اس لیے پھل کی سلامتی کی حدیث کا مرکزی پیغام بہت صاف ہے: جب تک پھل کی حالت واضح نہ ہو، سودا نہ کیا جائے۔ یہ بات خاص طور پر باغات، کھجور، اور درخت پر لگے پھل کے معاملات میں سمجھ آتی ہے۔ خریدار کو نقصان سے بچانا اور بیچنے والے کو غیر واضح چیز بیچنے سے روکنا دونوں اس حکم میں شامل ہیں۔ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ تجارت میں نفع کے ساتھ امانت اور احتیاط بھی دیکھی جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- پھل کی بیع میں سلامتی معلوم ہونا ضروری ہے۔
- آفت کا خطرہ باقی ہو تو سودا روک دینا چاہیے۔
- سرخی یا زردی کو صلاحیت ظاہر ہونے کی علامت بتایا گیا ہے۔
