صحیح مسلم حدیث ۳۸۷۰ - آفت کا خاتمہ
پھل کی صلاحیت کا مطلب: آفت کا خطرہ ختم ہونا
صحیح مسلم : ۳۸۷۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۸۷۰
وحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ . ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، كِلَاهُمَا عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَزَادَ فِي حَدِيثِ شُعْبَةَ ، فَقِيلَ لِابْنِ عُمَرَ : مَا صَلَاحُهُ ؟ قَالَ : تَذْهَبُ عَاهَتُهُ .
ترجمہ دوسری روایت کا بھی وہی ہے جو اوپر گزرا۔ اس میں اتنا زیادہ ہے لوگوں نے کہا سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے، پھل کی سلامتی سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے کہا: اس کی آفت جاتی رہے۔
صحیح مسلم حدیث ۳۸۷۰ کا خلاصہ
اس روایت میں پچھلے حکم کی ایک وضاحت بھی آتی ہے۔ جب سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا گیا کہ پھل کی صلاحیت سے کیا مراد ہے تو انہوں نے کہا کہ اس کی آفت جاتی رہے۔ اس سے پھل کی بیع کی حدیث کا مطلب عام آدمی کے لیے آسان ہو جاتا ہے۔ بات صرف رنگ یا شکل تک محدود نہیں رہتی، بلکہ اصل مقصد یہ ہے کہ نقصان کا خطرہ کم ہو اور پھل کی حالت صاف ہو۔ درخت پر لگے پھل کا سودا اس وقت پریشانی بن سکتا ہے جب آفت باقی ہو۔ اس لیے خریدار اور بیچنے والے دونوں کو چاہیے کہ پھل کی صلاحیت ظاہر ہونے اور آفت کے جانے تک انتظار کریں۔ یہ روایت تجارت میں احتیاط، صاف معاملہ، اور بے جا خطرے سے بچنے کی تعلیم دیتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- پھل کی صلاحیت کا تعلق آفت کے خطرے کے دور ہونے سے ہے۔
- سودا کرنے سے پہلے چیز کی حالت واضح ہونی چاہیے۔
- خرید و فروخت میں دونوں فریقوں کو نقصان کے امکان سے بچنا چاہیے۔
