صحیح مسلم حدیث ۳۸۶۹ - پھل کی صلاحیت
پھل کی صلاحیت ظاہر ہونے تک فروخت نہ کرنے کی حدیث
صحیح مسلم : ۳۸۶۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۸۶۹
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، وَيَحْيَي بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، قَالَ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى : أَخْبَرَنَا ، وقَالَ الْآخَرُونَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَبِيعُوا الثَّمَرَ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهُ " .
عبداللہ بن عمر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مت بیچو پھل کو جب تک اس کی سلامتی معلوم نہ ہو لے۔“
صحیح مسلم حدیث ۳۸۶۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صاف فرمایا کہ پھل کو اس وقت تک نہ بیچو جب تک اس کی صلاحیت ظاہر نہ ہو۔ یہ مختصر مگر بہت اہم ہدایت ہے۔ پھل کی صلاحیت ظاہر ہونا اس بات کی علامت ہے کہ اس کی حالت خریدار اور بیچنے والے کے سامنے کچھ واضح ہو چکی ہے۔ اگر پھل ابھی کچا ہو یا اس پر آفت کا خطرہ باقی ہو تو سودا بعد میں ناپسندیدہ نتیجہ دے سکتا ہے۔ اس لیے پھل کی بیع کی حدیث عام تجارت کے لیے بھی ایک اصول دیتی ہے: ایسی چیز بیچنے میں احتیاط کرو جس کے بارے میں ابھی یقین نہ ہو۔ یہاں بات کو متن کے دائرے میں رکھیں تو اصل حکم یہی ہے کہ پھل کی فروخت صلاحیت ظاہر ہونے کے بعد ہو۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- درخت پر لگے پھل کی خرید و فروخت میں پختگی اور سلامتی کا انتظار کیا جائے۔
- بیچنے والے اور خریدار دونوں کو ایسے سودے سے بچنا چاہیے جس میں آفت کا خطرہ باقی ہو۔
- سودے میں جلدی کے بجائے چیز کی حالت صاف ہونے کو ترجیح دی جائے۔
