صحیح مسلم حدیث ۳۸۷۲ - پھل کی صلاحیت

درخت کے پھل کی بیع صلاحیت ظاہر ہونے کے بعد

صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۸۷۲

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ النَّوْفَلِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ . ح حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، وَاللَّفْظُ لَهُ : حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، قَالَا : حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُول : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهُ " .

جابر بن عبداللہ انصاری روایت:

منع کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے درخت کے پھل بیچنے سے یہاں تک کہ اس کی صلاحیت ظاہر ہو۔

صحیح مسلم حدیث ۳۸۷۲ کا خلاصہ

اس حدیث میں سیدنا جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے درخت کے پھل کی بیع سے منع فرمایا یہاں تک کہ اس کی صلاحیت ظاہر ہو جائے۔ یہ حکم بہت سادہ ہے اور روزمرہ تجارت سے جڑا ہوا ہے۔ درخت پر لگا پھل ابھی موسم، آفت، یا خرابی کے خطرے میں ہو سکتا ہے۔ جب تک اس کی حالت ظاہر نہ ہو، خریدار کو بھی پوری بات معلوم نہیں ہوتی اور بیچنے والے کے لیے بھی معاملہ صاف نہیں رہتا۔ اس لیے پھل کی بیع کی حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ خرید و فروخت میں جلدی سے پہلے چیز کی حالت دیکھی جائے۔ متن کے مطابق اصل حکم یہی ہے کہ صلاحیت ظاہر ہونے سے پہلے درخت کا پھل نہ بیچا جائے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • درخت پر لگے پھل کی خرید و فروخت میں پختگی اور سلامتی کا انتظار کیا جائے۔
  • بیچنے والے اور خریدار دونوں کو ایسے سودے سے بچنا چاہیے جس میں آفت کا خطرہ باقی ہو۔
  • سودے میں جلدی کے بجائے چیز کی حالت صاف ہونے کو ترجیح دی جائے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں