صحیح مسلم حدیث ۳۸۷۳ - کھجور کی بیع

کھجور کے درخت کی بیع: کھانے کے قابل ہونے تک انتظار

صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۸۷۳

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ ، قَالَ : سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، عَنْ بَيْعِ النَّخْلِ ، فَقَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ النَّخْلِ حَتَّى يَأْكُلَ مِنْهُ ، أَوْ يُؤْكَلَ ، وَحَتَّى يُوزَنَ " ، قَالَ : فَقُلْتُ : مَا يُوزَنُ ؟ فَقَالَ : رَجُلٌ عِنْدَهُ حَتَّى يُحْزَرَ .

ابوالبختری روایت:

میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا کھجور کے درختوں کی بیع کو(یعنی ان کے پھل بیچنے کو) انہوں نے کہا: منع کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کی بیع سے جب تک وہ کھانے کے لائق ہو اور جب تک وہ کاٹ کر رکھنے کے لائق ہو۔

صحیح مسلم حدیث ۳۸۷۳ کا خلاصہ

اس حدیث میں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کھجور کے درختوں کی بیع کے بارے میں سوال کیا گیا۔ انہوں نے جواب دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کی بیع سے منع فرمایا جب تک وہ کھانے کے لائق نہ ہو جائے یا اس میں سے کھایا نہ جا سکے، اور جب تک اس کا اندازہ نہ کیا جا سکے۔ متن میں «یوزن» کی وضاحت «یحرز» یعنی اندازہ کرنے سے کی گئی ہے۔ اس حدیث کا موضوع کھجور کی بیع ہے، خاص طور پر درخت پر لگے پھل کا سودا۔ عام فہم بات یہ ہے کہ جب تک کھجور کی حالت، فائدہ، اور مقدار کا اندازہ واضح نہ ہو، سودا روک دینا چاہیے۔ اس سے خریدار اور بیچنے والے دونوں کو غیر واضح معاملے سے بچنے میں مدد ملتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • کھجور کھانے کے قابل ہونے سے پہلے اس کی بیع سے بچنا چاہیے۔
  • مقدار یا اندازہ واضح ہونا معاملے کو صاف بناتا ہے۔
  • سوال ہو تو علم والے صحابی سے پوچھنے کا انداز بھی اس روایت میں آتا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں