صحیح مسلم حدیث ۳۸۸۹ - سود یا زبن کے الفاظ کے ساتھ روایت
مزابنہ کی روایت: الفاظ کے فرق کے ساتھ وہی مضمون
صحیح مسلم : ۳۸۸۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۸۸۹
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، جَمِيعًا عَنْ الثَّقَفِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ ، يَقُولُ : أَخْبَرَنِي بُشَيْرُ بْنُ يَسَارٍ ، عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَهْلِ دَارِهِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى ، فَذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ ، عَنْ يَحْيَى ، غَيْرَ أَنَّ إِسْحَاقَ ، وَابْنَ الْمُثَنَّى جَعَلَا مَكَانَ الرِّبَا : الزَّبْنَ ، وقَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ : الرِّبَا .
مذکورہ بالا حدیث اس سند سے بھی مروی ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۳۸۸۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں بتایا گیا ہے کہ اوپر والی روایت ایک دوسری سند سے بھی آئی۔ اس میں وہی مضمون ہے جس میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے کھجور کی ایک خاص بیع سے منع فرمایا تھا، مگر ایک راوی کے الفاظ میں ربا کی جگہ زبن آیا، جبکہ دوسرے نے ربا کا لفظ نقل کیا۔ اس لیے اس روایت کا موضوع مزابنہ کی حدیث، سود، زبن، اور عریہ کی رخصت سے جڑا ہے۔ عام قاری کے لیے اہم بات یہ ہے کہ متن میں الفاظ کا یہ فرق خود روایت کے اندر بیان ہے، اس لیے اسے چھپانا نہیں چاہیے اور نہ اس سے نیا حکم گھڑنا چاہیے۔ یہاں مقصد سابقہ مضمون کی نقل اور الفاظ کے فرق کو دکھانا ہے، نہ الگ واقعہ بیان کرنا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- یہ روایت سابقہ مزابنہ والی حدیث کا ایک اور طریق ہے۔
- روایت میں ربا اور زبن کے الفاظ کا فرق ذکر ہوا ہے۔
- مضمون وہی ہے، اس سے الگ نیا مسئلہ بیان نہیں ہوا۔
