صحیح مسلم حدیث ۳۹۰۱ - پیوند شدہ کھجور کا پھل کس کا؟
پیوند شدہ کھجور کی بیع: پھل کا حق کس کو ملے گا؟
صحیح مسلم : ۳۹۰۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۹۰۱
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ بَاعَ نَخْلًا قَدْ أُبِّرَتْ ، فَثَمَرَتُهَا لِلْبَائِعِ ، إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ " .
عبداللہ بن عمر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے کھجور کے درخت کو بیچا گابھا پیوند کرنے کے بعد تو اس پر کے پھل بائع کے ہیں مگر جب خریدار شرط کر لے۔“
صحیح مسلم حدیث ۳۹۰۱ کا خلاصہ
یہ حدیث خرید و فروخت کی حدیث میں بہت صاف اصول بتاتی ہے۔ اگر کھجور کا درخت اس وقت بیچا گیا جب اس پر گابھا پیوند ہو چکا تھا، تو اس سال کا پھل بیچنے والے کا رہے گا۔ ہاں، اگر خریدار خریدتے وقت یہ شرط کر لے کہ پھل بھی مجھے ملے گا، تو معاملہ شرط کے مطابق ہو گا۔ اس سے پتا چلتا ہے کہ بیع میں شرط صاف الفاظ میں طے کرنا ضروری ہے۔ درخت پر لگی کھجور کی بیع میں خاموشی بعد میں اختلاف بنا سکتی ہے، اس لیے فریقین پہلے ہی بتا دیں کہ پھل کس کا ہو گا۔ حدیث کا اصل پیغام یہی ہے کہ حق واضح رہے اور خرید و فروخت میں جھگڑا نہ بنے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- پیوند شدہ کھجور کا پھل شرط نہ ہو تو بیچنے والے کا رہتا ہے۔
- خریدار پھل لینا چاہے تو خرید کے وقت شرط صاف کر لے۔
- بیع میں خاموشی کے بجائے واضح بات کرنا اختلاف کم کرتا ہے۔
