صحیح مسلم حدیث ۳۹۰۲ - کھجور کی جڑیں خریدنے کا حکم
کھجور کی جڑیں خریدنے کے بعد پھل کس کا ہو گا؟
صحیح مسلم : ۳۹۰۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۹۰۲
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، جَمِيعًا عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَاللَّفْظُ لَهُ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْر ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَيُّمَا نَخْلٍ اشْتُرِيَ أُصُولُهَا وَقَدْ أُبِّرَتْ ، فَإِنَّ ثَمَرَهَا لِلَّذِي أَبَّرَهَا ، إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الَّذِي اشْتَرَاهَا " .
عبداللہ بن عمر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس درخت کی جڑیں کوئی خرید لے اور اس میں گابھا پیوند ہوا ہو تو پھل اسی کے ہوں گے جس نے پیوند کیا ہے مگر جب خریدار شرط کر لے۔“
صحیح مسلم حدیث ۳۹۰۲ کا خلاصہ
یہ روایت بھی کھجور کے درخت کی بیع سے متعلق ہے، مگر اس میں جڑیں خریدنے کا ذکر ہے۔ حدیث کے مطابق اگر خریدار نے درخت کی اصل یا جڑیں خریدیں، اور اس درخت پر پہلے ہی گابھا پیوند ہو چکا تھا، تو پھل اسی کا ہو گا جس نے پیوند کیا تھا۔ البتہ خریدار اگر شرط لگا دے کہ پھل بھی میری خرید میں شامل ہو گا، تو پھر اسی شرط کو دیکھا جائے گا۔ اس حدیث سے بیع میں شرط کی حدیث کا عملی مطلب سمجھ آتا ہے۔ چیز خریدتے وقت صرف درخت، زمین یا اصل کا نام کافی نہیں، بلکہ پھل کا حق بھی صاف ہونا چاہیے۔ اس طرح معاملہ سیدھا رہتا ہے اور بعد کی بحث سے بچت ہوتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- پیوند شدہ کھجور کا پھل شرط نہ ہو تو بیچنے والے کا رہتا ہے۔
- خریدار پھل لینا چاہے تو خرید کے وقت شرط صاف کر لے۔
- بیع میں خاموشی کے بجائے واضح بات کرنا اختلاف کم کرتا ہے۔
