صحیح مسلم حدیث ۳۹۰۳ - درخت بیچنے میں پھل کا حق
درخت پر لگی کھجور کی بیع اور خریدار کی شرط
صحیح مسلم : ۳۹۰۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۹۰۳
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عن نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَيُّمَا امْرِئٍ أَبَّرَ نَخْلًا ، ثُمَّ بَاعَ أَصْلَهَا ، فَلِلَّذِي أَبَّرَ ثَمَرُ النَّخْلِ إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ " .
عبداللہ بن عمر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو مرد گابھا پیوند کر کے کھجور کے درخت کو بیچ ڈالے تو پھل اسی کا ہو گا مگر جس صورت میں خریدار شرط کرے پھل کی۔“
صحیح مسلم حدیث ۳۹۰۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں وہی اصول ایک اور انداز سے بیان ہوا ہے کہ جس شخص نے کھجور کو گابھا پیوند کیا، پھر اس کے بعد درخت کی اصل بیچ دی، تو پھل اسی پیوند کرنے والے کا ہو گا۔ خریدار کو پھل اسی وقت ملے گا جب وہ خرید کے وقت اس کی شرط کر لے۔ عام فہم انداز میں بات یہ ہے کہ درخت کی بیع اور اس پر موجود پھل کی بیع کو ایک سمجھ لینا درست نہیں، جب تک شرط نہ ہو۔ درخت پر لگی کھجور کی بیع میں یہ بات بہت اہم ہے کہ فریقین بول کر طے کریں کہ پھل کس کو ملے گا۔ حدیث خرید و فروخت کے معاملے کو صاف رکھنے کی تعلیم دیتی ہے، تاکہ کسی کا حق دب نہ جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- پیوند شدہ کھجور کا پھل شرط نہ ہو تو بیچنے والے کا رہتا ہے۔
- خریدار پھل لینا چاہے تو خرید کے وقت شرط صاف کر لے۔
- بیع میں خاموشی کے بجائے واضح بات کرنا اختلاف کم کرتا ہے۔
