صحیح مسلم حدیث ۳۹۰۴ - پیوند شدہ کھجور کی شرط
پیوند شدہ کھجور کی بیع میں شرط کا آسان اصول
صحیح مسلم : ۳۹۰۴
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۹۰۴
وحَدَّثَنَاه أَبُو الرَّبِيعِ ، وَأَبُو كَامِلٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ . ح وحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، كِلَاهُمَا عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ .
مذکورہ بالا حدیث اس سند سے بھی مروی ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۳۹۰۴ کا خلاصہ
یہ حدیث پچھلی روایت ہی کے مفہوم کو دوسری سند سے بیان کرتی ہے۔ یہاں اصل بات یہ ہے کہ پیوند شدہ کھجور کا پھل عام طور پر بیچنے والے کے حق میں رہتا ہے، جب تک خریدار نے پھل لینے کی شرط نہ لگائی ہو۔ اس طرح کی روایتیں ہمیں بتاتی ہیں کہ خرید و فروخت میں الفاظ اور شرط کا بڑا اثر ہوتا ہے۔ اگر کوئی شخص صرف درخت خریدتا ہے، اور پھل کے بارے میں بات نہیں کرتا، تو اس حدیث کے مطابق پھل بائع کا ہو گا۔ اسی لیے بیع میں شرط کی حدیث لوگوں کو پہلے سے صاف معاملہ کرنے کی طرف لے جاتی ہے۔ اس میں نہ غیر ضروری سختی ہے، نہ اندازے پر فیصلہ؛ اصل بنیاد واضح شرط ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- پیوند شدہ کھجور کا پھل شرط نہ ہو تو بیچنے والے کا رہتا ہے۔
- خریدار پھل لینا چاہے تو خرید کے وقت شرط صاف کر لے۔
- بیع میں خاموشی کے بجائے واضح بات کرنا اختلاف کم کرتا ہے۔
