صحیح مسلم حدیث ۳۹۱۸ - زائد زمین کا صحیح استعمال

زائد زمین ہو تو خود کاشت کرو یا بھائی کو دے دو

صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۹۱۸

حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا هِقْلٌ يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كَانَ لِرِجَالٍ فُضُولُ أَرَضِينَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ كَانَتْ لَهُ فَضْلُ أَرْضٍ ، فَلْيَزْرَعْهَا ، أَوْ لِيَمْنَحْهَا أَخَاهُ ، فَإِنْ أَبَى ، فَلْيُمْسِكْ أَرْضَهُ " .

جابر بن عبداللہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض صحابہ کے پاس زمینیں تھیں جو خالی تھیں بیکار (یعنی ان میں کھیتی نہیں ہوتی تھی) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے پاس ضرورت سے زیادہ زمین ہو وہ اس میں کھیتی کرے یا اپنے بھائی مسلمان کو دے (کھیتی کے لئے) اگر وہ نہ لے تو اپنی زمین رکھ چھوڑے۔“

صحیح مسلم حدیث ۳۹۱۸ کا خلاصہ

یہ حدیث ان صحابہ کے ذکر سے شروع ہوتی ہے جن کے پاس ضرورت سے زیادہ خالی زمینیں تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس کے پاس زائد زمین ہو، وہ اس میں کھیتی کرے، یا اپنے بھائی مسلمان کو دے۔ اگر وہ بھائی نہ لے تو مالک اپنی زمین اپنے پاس رکھے۔ اس سے زمین کی حدیث کا عملی پہلو سامنے آتا ہے کہ خالی پڑی زمین کو کاشت کے قابل بنایا جائے، اور اگر خود کاشت نہ ہو سکے تو مسلمان بھائی کو موقع دیا جائے۔ حدیث میں یہ بھی صاف ہے کہ اگر دوسرا شخص نہ لے تو مالک پر زبردستی نہیں، وہ زمین رکھ سکتا ہے۔ اس بیان میں تعاون، صاف معاملہ اور بے فائدہ چھوڑنے سے بچنے کی تعلیم ملتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • زائد زمین کو کاشت کے کام میں لانا بہتر راستہ بتایا گیا ہے۔
  • خود کاشت نہ ہو تو مسلمان بھائی کو دینا حدیث میں آیا ہے۔
  • اگر دوسرا شخص نہ لے تو مالک اپنی زمین رکھ سکتا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں