صحیح مسلم حدیث ۳۹۲۰ - زمین خود کاشت کرو یا بھائی کو دو

زمین کرایہ حدیث: خود کھیتی کرو، نہ ہو تو بھائی کو دے دو

صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۹۲۰

حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ ، فَلْيَزْرَعْهَا ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يَزْرَعَهَا وَعَجَزَ عَنْهَا ، فَلْيَمْنَحْهَا أَخَاهُ الْمُسْلِمَ ، وَلَا يُؤَاجِرْهَا إِيَّاهُ " .

جابر روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے پاس زمین ہو وہ اس میں کھیتی کرے اگر نہ کر سکے اور عاجز ہو تو اس میں کھیتی کرنے سے تو اپنے بھائی مسلمان کو دے اور اس سے کرایہ نہ لے۔“

صحیح مسلم حدیث ۳۹۲۰ کا خلاصہ

یہ حدیث زمین کے مالک کو صاف راستہ بتاتی ہے۔ جس کے پاس زمین ہو، وہ خود اس میں کھیتی کرے۔ اگر وہ کاشت نہیں کر سکتا اور اس سے عاجز ہے تو اپنے مسلمان بھائی کو دے دے، اور اس سے کرایہ نہ لے۔ زمین کرایہ حدیث کا یہ انداز بہت عملی ہے، کیونکہ اس میں صرف منع نہیں، بلکہ بدل بھی بتایا گیا ہے۔ زمین بیکار نہ رہے، مالک بھی اپنے حق کو پہچانے، اور دوسرے مسلمان کو فائدہ بھی پہنچے۔ مگر متن میں جو بات ہے وہی کافی ہے: کرایہ لینے کے بجائے بھائی کو کاشت کے لیے دے۔ اس سے زرعی معاملہ صاف رہتا ہے اور نفع کے بجائے تعاون کا پہلو سامنے آتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • زمین ہو تو مالک خود اس میں کھیتی کرے۔
  • خود کاشت نہ ہو سکے تو مسلمان بھائی کو کاشت کے لیے دے سکتا ہے۔
  • متن کے مطابق زمین کے بدلے کرایہ لینے سے بچنے کی ہدایت آئی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں