صحیح مسلم حدیث ۳۹۲۱ - زمین خود کاشت کرنے کی حدیث
زمین کرایہ پر دینے کی حدیث اور مزارعت کا آسان بیان
صحیح مسلم : ۳۹۲۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۹۲۱
وحَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، قَالَ : سَأَلَ سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى عَطَاءً ، فَقَالَ : أَحَدَّثَكَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ ، فَلْيَزْرَعْهَا ، أَوْ لِيُزْرِعْهَا أَخَاهُ ، وَلَا يُكْرِهَا " ، قَالَ : نَعَمْ .
ہمام روایت:
سلیمان بن موسیٰ نے عطاء سے پوچھا: کیا تم سے سیدنا جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث بیان کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے پاس زمین ہو وہ اس میں کھیتی کرے یا اپنے بھائی کو کھیتی کے لیے دے اور اس کو کرایہ پر نہ چلائے۔“ انہوں نے کہا: ہاں۔
صحیح مسلم حدیث ۳۹۲۱ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع زمین، کھیتی اور کرایہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس کے پاس زمین ہو وہ اس میں خود کھیتی کرے، یا اپنے بھائی کو کھیتی کے لیے دے، اور اسے کرایہ پر نہ چلائے۔ یہاں بات بہت صاف انداز میں آئی ہے: زمین کو صرف آمدنی کا ذریعہ بنا کر کرایہ پر دینا اس روایت میں پسند نہیں کیا گیا۔ اس کے بجائے یا تو مالک خود محنت کرے، یا کسی مسلمان بھائی کو فائدہ اٹھانے دے۔ اس حدیث میں زمین کرایہ پر دینے کی حدیث، مزارعت کی حدیث، اور کھیتی کے لیے زمین دینے کا مسئلہ ایک ہی بات کی طرف لے جاتا ہے کہ زمین کو ضائع نہ کیا جائے اور دوسروں کے لیے آسانی پیدا کی جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- زمین ہو تو اسے بے کار چھوڑنے کے بجائے خود کاشت کرنا بہتر بتایا گیا۔
- اگر مالک خود کاشت نہ کرے تو بھائی کو کھیتی کے لیے دینا اچھا راستہ ہے۔
- اس روایت میں زمین کو کرایہ پر چلانے سے منع کیا گیا ہے۔
- زمین کے فائدے میں دوسروں کو شریک کرنے کی ترغیب ملتی ہے۔
