صحیح مسلم حدیث ۳۹۲۳ - فاضل زمین خود کاشت کرو

فاضل زمین کی حدیث: خود کاشت کرو یا بھائی کو دو

صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۹۲۳

وحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ ، حَدَّثَنَا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مِينَاءَ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ كَانَ لَهُ فَضْلُ أَرْضٍ ، فَلْيَزْرَعْهَا ، أَوْ لِيُزْرِعْهَا أَخَاهُ ، وَلَا تَبِيعُوهَا " ، فَقُلْتُ لِسَعِيدٍ : مَا قَوْلُهُ : وَلَا تَبِيعُوهَا : يَعْنِي الْكِرَاء ، قَالَ : نَعَمْ .

جابر بن عبداللہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے پاس فاضل زمین ہو وہ اس میں کھیتی کرے یا اپنے بھائی کو کھیتی کے لئے دے اور نہ بیچو اس کو۔“ سلیم بن حیان نے کہا: میں نے سعید بن مینا سے پوچھا: بیچنے سے کیا مراد ہے کیا کرائے پر چلانا؟ انہوں نے کہا: ہاں۔

صحیح مسلم حدیث ۳۹۲۳ کا خلاصہ

اس حدیث میں فاضل زمین کا ذکر ہے، یعنی ایسی زمین جو مالک کے پاس اضافی ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس کے پاس فاضل زمین ہو وہ خود اس میں کھیتی کرے، یا اپنے بھائی کو کھیتی کے لیے دے، اور اسے نہ بیچو۔ روایت کے آخر میں وضاحت آئی کہ یہاں بیچنے سے مراد کرایہ پر چلانا ہے۔ اس لیے اس حدیث میں اصل بات زمین کرایہ پر دینے کی ممانعت اور زمین کو فائدہ مند بنانے کی ترغیب ہے۔ عام فہم انداز میں کہا جائے تو زمین کو صرف کرایہ کی آمدنی کے لیے نہ روکا جائے، بلکہ یا خود کاشت کی جائے یا کسی بھائی کو کھیتی کے لیے دے دی جائے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • فاضل زمین کو خود کاشت کرنے کی ترغیب دی گئی۔
  • اگر مالک خود کاشت نہ کرے تو بھائی کو کھیتی کے لیے دے سکتا ہے۔
  • روایت میں کرایہ پر چلانے سے منع کیا گیا ہے۔
  • حدیث کے اندر ہی بیچنے کے لفظ کی مراد کرایہ بیان ہوئی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں