صحیح مسلم حدیث ۳۹۲۵ - تہائی چوتھائی بٹائی سے ممانعت
تہائی چوتھائی بٹائی کی حدیث اور زمین کا درست استعمال
صحیح مسلم : ۳۹۲۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۹۲۵
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى ، جميعا عَنْ ابْنِ وَهْبٍ ، قَالَ ابْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ ، أَنَّ أَبَا الزُّبَيْرِ الْمَكِّيّ ، حَدَّثَهُ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : كُنَّا فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَأْخُذُ الْأَرْضَ بِالثُّلُثِ ، أَوِ الرُّبُعِ بِالْمَاذِيَانَاتِ ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ فَقَالَ : " مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ ، فَلْيَزْرَعْهَا ، فَإِنْ لَمْ يَزْرَعْهَا ، فَلْيَمْنَحْهَا أَخَاهُ ، فَإِنْ لَمْ يَمْنَحْهَا أَخَاهُ ، فَلْيُمْسِكْهَا " .
جابر بن عبداللہ روایت:
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں زمین کو تہائی یا چوتھائی پیدوار پر (بٹائی سے) جو نہروں کے کناروں پر ہو لیا کرتے تھے تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”جس کے پاس زمین ہو وہ خود اس میں کھیتی کرے نہیں تو اپنے بھائی کو مفت دے نہیں تو رہنے دے اور بٹائی پر نہ چلائے۔“
صحیح مسلم حدیث ۳۹۲۵ کا خلاصہ
اس روایت میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بتاتے ہیں کہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں زمین کو تہائی یا چوتھائی پیداوار پر لیتے تھے، خاص طور پر نہروں کے کناروں والی پیداوار کے معاملے میں۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور فرمایا کہ جس کے پاس زمین ہو وہ خود کھیتی کرے، اگر خود نہ کرے تو اپنے بھائی کو مفت دے، اور اگر یہ بھی نہ کرے تو زمین اپنے پاس رکھے۔ اس حدیث میں بٹائی، مزارعت، اور زمین مفت دینے کی بات صاف طور پر آتی ہے۔ روایت سے یہی سمجھ آتا ہے کہ اس خاص بٹائی کے معاملے کے بجائے خود کاشت یا بھائی کو مفت دینا بہتر بتایا گیا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- تہائی یا چوتھائی پیداوار پر زمین لینے کا معاملہ روایت میں ذکر ہوا۔
- نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین والے کو خود کاشت کرنے کی ہدایت دی۔
- خود کاشت نہ ہو تو بھائی کو مفت دینے کا ذکر آیا۔
- اگر بھائی کو نہ دے تو زمین اپنے پاس رکھنے کی بات فرمائی گئی۔
