صحیح مسلم حدیث ۳۹۲۶ - زمین ہبہ یا عاریت دینے کی حدیث
زمین ہبہ یا عاریت دینے کی حدیث کا آسان پیغام
صحیح مسلم : ۳۹۲۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۹۲۶
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ ، فَلْيَهَبْهَا أَوْ لِيُعِرْهَا " .
جابر روایت:
میں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”جس کے پاس زمین ہو وہ اس کو ہبہ کر دے یا عاریتہً دے۔“
صحیح مسلم حدیث ۳۹۲۶ کا خلاصہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ جس کے پاس زمین ہو وہ اسے ہبہ کر دے یا عاریت کے طور پر دے۔ یہ روایت مختصر ہے مگر اس کا پیغام واضح ہے۔ زمین رکھنے والا شخص اپنی زمین سے دوسروں کو فائدہ پہنچا سکتا ہے۔ یہاں ہبہ کا مطلب دینا ہے، اور عاریت کا مطلب استعمال کے لیے دینا ہے۔ اس حدیث میں زمین ہبہ کرنے کی حدیث، زمین عاریت دینے کی حدیث، اور کھیتی کے لیے زمین دینے کی بات آتی ہے۔ متن سے بڑھ کر کوئی نیا حکم بیان کرنے کے بجائے یہی کہنا مناسب ہے کہ روایت زمین کے فائدے کو دوسروں تک پہنچانے کی ترغیب دیتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- زمین والے کو ہبہ کرنے کی ترغیب دی گئی۔
- زمین عاریت کے طور پر دینے کا بھی ذکر ہے۔
- زمین کے ذریعے دوسرے کو فائدہ پہنچایا جا سکتا ہے۔
- روایت میں کرایہ کے بجائے دینے اور عاریت کی صورت بیان ہوئی ہے۔
