صحیح مسلم حدیث ۳۹۱۹ - زمین کے بدلے اجر یا حصہ نہ لینا

زمین کے کرایہ یا حصہ لینے سے متعلق حدیث کی سادہ بات

صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۹۱۹

وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ الرَّازِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، أَخْبَرَنَا الشَّيْبَانِيُّ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَخْنَسِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُؤْخَذَ لِلْأَرْضِ أَجْرٌ ، أَوْ حَظٌّ " .

جابر بن عبداللہ روایت:

منع کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کا کرایہ یا فائدہ لینے سے۔

صحیح مسلم حدیث ۳۹۱۹ کا خلاصہ

یہ روایت زمین کے بدلے کرایہ یا پیداوار کا فائدہ لینے سے منع بیان کرتی ہے۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ کے الفاظ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ زمین کے لیے اجر یا حصہ لیا جائے۔ زمین کرائے پر دینے کی حدیث کو سمجھتے وقت اسی متن کو سامنے رکھنا چاہیے۔ یہاں حکم زرعی زمین کے معاوضے سے متعلق ہے، اس لیے معاملے کو واضح، صاف اور شرعی حد میں رکھنے کی ضرورت ہے۔ حدیث کا سادہ سبق یہ ہے کہ زمین کو نفع کا ذریعہ بنانے سے پہلے دیکھا جائے کہ طریقہ درست ہے یا نہیں۔ اگر زمین خود کاشت ہو سکتی ہے تو کاشت کرے، اور اگر نہ ہو تو دیگر روایات کے مطابق مسلمان بھائی کو دینا بھی آیا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • زمین کے لیے اجر یا حصہ لینے سے ممانعت بیان ہوئی ہے۔
  • زرعی زمین کا معاملہ نفع سے پہلے درست طریقے کا تقاضا کرتا ہے۔
  • متن کے مطابق کرایہ یا حصہ لینے سے بچنے کی ہدایت ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں