صحیح مسلم حدیث ۳۹۱۶ - زمین کرائے پر دینے سے ممانعت
زمین کرایہ حدیث: زرعی معاملہ صاف رکھنے کی ہدایت
صحیح مسلم : ۳۹۱۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۹۱۶
وحَدَّثَنِي أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنْ مَطَرٍ الْوَرَّاقِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَهَى عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ " .
جابر بن عبداللہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا زمین کو کرائے پر دینے سے۔
صحیح مسلم حدیث ۳۹۱۶ کا خلاصہ
یہ مختصر حدیث زمین کرائے پر دینے کے بارے میں ہے۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کو کرائے پر دینے سے منع فرمایا۔ متن میں تفصیل کم ہے، اس لیے اسی حد تک بات رکھنی چاہیے کہ زرعی زمین کے معاملے میں ایسا کرایہ جس کا ذکر یہاں آیا، ممانعت میں داخل ہے۔ زمین کرایہ حدیث کا سبق یہ ہے کہ مسلمان اپنے مالی معاملات میں صرف نفع نہ دیکھے، بلکہ طریقہ بھی درست اور صاف رکھے۔ جب زمین، فصل اور فائدہ کا تعلق ہو تو معاملہ زیادہ حساس ہو جاتا ہے۔ حدیث ہمیں احتیاط سکھاتی ہے کہ زمین کے بدلے کرایہ یا فائدہ لیتے وقت شرعی حد کا خیال رکھا جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- زمین کے کرائے سے متعلق ممانعت روایت میں صاف آئی ہے۔
- مختصر متن میں جتنی بات ہے اسی تک رہنا چاہیے۔
- زرعی معاملہ کرتے وقت شرعی احتیاط ضروری ہے۔
