صحیح مسلم حدیث ۳۹۱۵ - زمین کا کرایہ اور کچے پھل کی بیع
زمین کرائے پر دینے اور گدرانے سے پہلے پھل بیچنے کا حکم
صحیح مسلم : ۳۹۱۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۹۱۵
وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ ، حَدَّثَنَا رَبَاحُ بْنُ أَبِي مَعْرُوفٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَطَاءً ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ ، وَعَنْ بَيْعِهَا السِّنِينَ ، وَعَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ حَتَّى يَطِيبَ " .
سیدنا جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، منع کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کو کرایہ پر دینے سے اور کئی برس کے لئے بیع کرنے سے اور پھل کے بیچنے سے (جو درخت پر لگا ہو) جب تک وہ گدرے نہ ہوں۔
صحیح مسلم حدیث ۳۹۱۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں تین باتیں آئی ہیں: زمین کو کرایہ پر دینے سے منع کیا گیا، کئی برس کے لیے بیع کرنے سے منع کیا گیا، اور درخت پر لگے پھل کو اس وقت تک بیچنے سے منع کیا گیا جب تک وہ گدر نہ ہو جائے۔ یہاں گدرانے کا مطلب یہ ہے کہ پھل میں پختگی کے آثار ظاہر ہو جائیں۔ زمین کرائے پر دینے کی حدیث اور پھل بیچنے کی حدیث دونوں میں ایک مشترک بات ہے: ایسا معاملہ نہ کیا جائے جس میں آگے چل کر پیداوار، پھل یا مدت کے بارے میں جھگڑا بن سکتا ہو۔ حدیث ہمیں یہ نہیں کہتی کہ ہر معاملہ مشکل بنا دو، بلکہ یہ سکھاتی ہے کہ سودا پکا، معلوم اور صاف حالت میں ہو۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- زمین کرائے پر دینے سے ممانعت اس روایت میں بیان ہوئی ہے۔
- کئی برس کے لیے پھل کی بیع سے بچنے کا حکم آیا ہے۔
- پھل گدرانے سے پہلے بیچنے سے منع کیا گیا ہے۔
