صحیح مسلم حدیث ۳۹۱۴ - معاومہ اور عرایا کی روایت
زرعی بیع میں غیر واضح شرط اور عرایا کی رخصت
صحیح مسلم : ۳۹۱۴
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۹۱۴
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُ لَا يَذْكُرُ بَيْعُ السِّنِينَ : هِيَ الْمُعَاوَمَةُ .
مذکورہ بالا حدیث اس سند سے بھی مروی ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۳۹۱۴ کا خلاصہ
یہ روایت پچھلی حدیث کے مفہوم کو دوسری سند سے بیان کرتی ہے۔ اس میں محاقلہ، مزابنہ، معاومہ، مخابرہ، ثنیا اور عرایا کے حکم کا ذکر ہے، البتہ اس سند میں یہ تشریح نہیں آئی کہ معاومہ کو کئی برس کی بیع کہا گیا ہے۔ اس سے ہمیں متن کے اندر موجود فرق کا خیال رکھنا چاہیے۔ جب حدیث میں جو الفاظ آئے ہیں انہی تک بات رکھی جائے تو سمجھ بھی صاف رہتی ہے۔ زرعی سودوں میں اصل مسئلہ غیر واضح مقدار، غیر پکا پھل، یا ایسا استثناء ہے جس سے معلوم نہ ہو کہ سودا کس چیز پر ہوا۔ یہ روایت خرید و فروخت میں صاف شرط، معلوم چیز اور واضح عوض کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- متن کے فرق کو سمجھتے ہوئے روایت کی بات اسی حد تک رکھنی چاہیے۔
- غیر واضح مقدار یا استثناء بیع میں اختلاف پیدا کر سکتا ہے۔
- عرایا کا ذکر رخصت کے طور پر آیا ہے۔
