صحیح مسلم حدیث ۳۹۶۶ - خیبر کی زمین اور کھجوروں کا معاملہ
خیبر کی زمین اور درختوں کا معاملہ: نصف پھل کی حدیث
صحیح مسلم : ۳۹۶۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۹۶۶
وحَدَّثَنَا ابْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَّهُ دَفَعَ إِلَى يَهُودِ خَيْبَرَ نَخْلَ خَيْبَرَ وَأَرْضَهَا ، عَلَى أَنْ يَعْتَمِلُوهَا مِنْ أَمْوَالِهِمْ ، وَلِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَطْرُ ثَمَرِهَا " .
عبداللہ بن عمر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے درختوں کو اور زمین کو یہودیوں کے حوالے کر دیا کہ اس کی خدمت کریں اپنے مال سے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آدھا میوہ دیں۔
صحیح مسلم حدیث ۳۹۶۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں خیبر کی زمین اور کھجور کے درختوں کا ایک مختصر مگر واضح معاملہ بیان ہوا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے درخت اور زمین یہودیوں کے حوالے کیے تاکہ وہ اپنے مال سے ان کی خدمت اور کام کریں۔ اس کے بدلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے پھل کا آدھا حصہ مقرر تھا۔ یہ حدیث خیبر کی مزارعت، باغبانی کے معاملے اور پیداوار میں طے شدہ حصے کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔ متن میں یہ بات بھی موجود ہے کہ کام کرنے والے اپنے مال سے کام کریں گے۔ اس سے معاملے کی صورت صاف ہوتی ہے: زمین اور درخت ایک طرف، محنت اور خرچ دوسری طرف، اور پھر پھل میں نصف حصہ مقرر۔ حدیث میں اس سے زیادہ کوئی عمومی دعویٰ نہیں کیا گیا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- خیبر کی زمین اور درخت کام کے لیے دیے گئے تھے۔
- کام کرنے والوں نے اپنے مال سے خدمت کرنی تھی۔
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے پھل کا نصف حصہ مقرر تھا۔
