صحیح مسلم حدیث ۳۹۶۵ - خیبر والوں کو رہنے کی اجازت
خیبر والوں کا معاملہ: آدھی پیداوار اور اجازت کی شرط
صحیح مسلم : ۳۹۶۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۹۶۵
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ اللَّيْثِيُّ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ : لَمَّا افْتُتِحَتْ خَيْبَرُ ، سَأَلَتْ يَهُودُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنْ يُقِرَّهُمْ فِيهَا عَلَى أَنْ يَعْمَلُوا عَلَى نِصْفِ مَا خَرَجَ مِنْهَا مِنَ الثَّمَرِ ، وَالزَّرْعِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أُقِرُّكُمْ فِيهَا عَلَى ذَلِكَ مَا شِئْنَا " ، ثُمَّ سَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ ، وَابْنِ مُسْهِرٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، وَزَادَ فِيهِ : وَكَانَ الثَّمَرُ يُقْسَمُ عَلَى السُّهْمَانِ مِنْ نِصْفِ خَيْبَرَ ، فَيَأْخُذُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْخُمْسَ .
عبداللہ بن عمر روایت:
جب خیبر فتح ہوا تو یہود نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: آپ ہم کو رہنے دیجئیے یہیں اور جو پیداوار ہو میوہ یا اناج اس میں سے آدھا آپ لے لیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچھا میں زمین دیتا ہوں تم کو اس شرط پر مگر جب تک ہم چاہیں گے اور جب چاہیں گے نکال دیں گے۔ پھر بیان کیا حدیث کو اسی طرح جیسے اوپر گزری اتنا زیادہ ہے کہ میوے کے دو حصے کیے جاتے پانچواں حصہ اس میں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکال لیتے اپنے اور اپنی بیبیوں کے مصارف کے واسطے اور باقی سب مسلمانوں کو تقسیم ہوتا۔
صحیح مسلم حدیث ۳۹۶۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں خیبر فتح ہونے کے بعد کا معاملہ بیان ہوا ہے۔ یہود نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ انہیں وہیں رہنے دیا جائے اور وہ زمین پر کام کریں، پھر پھل یا اناج کی پیداوار کا آدھا حصہ دیا جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہم تمہیں اس شرط پر رہنے دیتے ہیں جب تک ہم چاہیں۔ اس روایت میں خیبر کا معاملہ، آدھی پیداوار، زمین پر کام اور اجازت کی شرط صاف الفاظ میں آتی ہے۔ اسی حدیث میں پھل کی تقسیم کا ذکر بھی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پانچواں حصہ لیتے تھے، جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور ازواج مطہرات کے اخراجات کے لیے تھا، اور باقی مسلمانوں میں تقسیم ہوتا تھا۔ بات اسی خاص واقعے کے دائرے میں رہتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- خیبر والوں کو آدھی پیداوار پر کام کرنے کی اجازت دی گئی۔
- رہنے کی اجازت مستقل نہیں بلکہ مسلمانوں کی مرضی تک تھی۔
- پیداوار کی تقسیم میں حصہ پہلے سے بیان کیا گیا تھا۔
