صحیح مسلم حدیث ۳۹۶۲ - خیبر کی پیداوار کا نصف معاملہ
خیبر کا زرعی معاملہ: آدھی پیداوار پر مزارعت کی حدیث
صحیح مسلم : ۳۹۶۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۹۶۲
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ الْقَطَّانُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ : " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَلَ أَهْلَ خَيْبَرَ بِشَطْرِ مَا يَخْرُجُ مِنْهَا مِنْ ثَمَرٍ ، أَوْ زَرْعٍ " .
عبداللہ بن عمر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاملہ کیا تھا خیبر والوں سے (جب خیبر فتح ہو گیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں کو وہاں سے نکال دینا چاہا، انہوں نے کہا: ہم کو رہنے دو اور جس طرح آپ کو منظور ہو ہم سے معاملہ کیجئیے تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ معاملہ کیا کہ) جو پیداوار ہو پھل یا اناج اس میں سے نصف ہمارا اور نصف تمہارا۔
صحیح مسلم حدیث ۳۹۶۲ کا خلاصہ
اس روایت میں خیبر کے لوگوں کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے معاملے کا ذکر ہے۔ حدیث کے مطابق جو پیداوار خیبر کی زمین سے نکلتی، چاہے پھل ہو یا اناج، اس میں نصف حصہ مقرر کیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ اس حدیث کو مزارعت کی حدیث اور خیبر کے معاملے کی حدیث کے طور پر تلاش کیا جاتا ہے۔ متن میں اصل بات یہ ہے کہ زمین اور محنت کے معاملے میں حصہ صاف طے کیا گیا تھا۔ ایک طرف زمین تھی اور دوسری طرف کام کرنے والے لوگ تھے، پھر پیداوار میں نصف نصف حصہ بیان ہوا۔ اس حدیث سے معاملہ کرتے وقت وضاحت، انصاف اور پہلے سے طے شدہ حصہ سمجھ میں آتا ہے۔ حدیث میں صرف خیبر کے اس خاص معاملے کی خبر دی گئی ہے، اس لیے بات کو اسی حد میں سمجھنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- زرعی معاملے میں پیداوار کا حصہ پہلے سے واضح ہونا چاہیے۔
- خیبر کے معاملے میں پھل اور اناج دونوں کی پیداوار شامل تھی۔
- حدیث میں نصف پیداوار کے اصول پر ایک عملی معاملہ بیان ہوا ہے۔
