صحیح مسلم حدیث ۳۹۶۳ - خیبر کی زمین اور ازواج مطہرات کا حصہ
خیبر کی زمین، آدھی پیداوار اور ازواج مطہرات کا حصہ
صحیح مسلم : ۳۹۶۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۹۶۳
وحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، حَدَّثَنَا عَلِيٌّ وَهُوَ ابْنُ مُسْهِرٍ ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " أَعْطَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ بِشَطْرِ مَا يَخْرُجُ مِنْ ثَمَرٍ ، أَوْ زَرْعٍ ، فَكَانَ يُعْطِي أَزْوَاجَهُ كُلَّ سَنَةٍ مِائَةَ وَسْقٍ : ثَمَانِينَ وَسْقًا مِنْ تَمْرٍ ، وَعِشْرِينَ وَسْقًا مِنْ شَعِيرٍ " ، فَلَمَّا وَلِيَ عُمَرُ قَسَمَ خَيْبَرَ خَيَّرَ أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنْ يُقْطِعَ لَهُنَّ الْأَرْضَ وَالْمَاءَ ، أَوْ يَضْمَنَ لَهُنَّ الْأَوْسَاقَ كُلَّ عَامٍ ، فَاخْتَلَفْنَ ، فَمِنْهُنَّ مَنِ اخْتَارَ : الْأَرْضَ وَالْمَاءَ ، وَمِنْهُنَّ مَنِ اخْتَارَ : الْأَوْسَاقَ كُلَّ عَامٍ ، فَكَانَتْ عَائِشَةُ ، وَحَفْصَةُ ، مِمَّنْ اخْتَارَتَا الْأَرْضَ وَالْمَاءَ .
عبداللہ بن عمر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کو حوالے کر دیا خیبر والوں کے اس شرط پر کہ جو پیداوار ہو پھل یا اناج وہ آدھا ہمارا ہے اور آدھا تمہارا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیبیوں کو ہر سال سو وسق دیتے اسی (۸۰) وسق کھجور کے اور بیس (۲۰) جو کے۔ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی خلافت میں خیبر کو تقسیم کر دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیبیوں کو اختیار دیا کہ تم بھی زمین اور پانی کا حصہ لے لو یا اپنے وسق لیتی رہو تو بعض نے زمین اور پانی لیا اور بعض نے وسق لینا منظور کیا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے زمین اور پانی لیا تھا۔
صحیح مسلم حدیث ۳۹۶۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں خیبر کے معاملے کی ایک تفصیل بیان ہوئی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر والوں کو اس شرط پر زمین دی کہ پھل یا اناج کی پیداوار آدھی ہو گی۔ پھر روایت میں یہ بھی آیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ازواج مطہرات کو ہر سال سو وسق دیتے تھے، جن میں اسی وسق کھجور اور بیس وسق جو شامل تھے۔ بعد میں جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے خیبر تقسیم کیا تو ازواج مطہرات کو اختیار دیا گیا کہ زمین اور پانی کا حصہ لے لیں یا ہر سال وسق لیتی رہیں۔ یہ حدیث خیبر کی زمین، پیداوار کی تقسیم، ازواج مطہرات کے حصے اور واضح اختیار کی اہمیت کو دکھاتی ہے۔ متن میں سیدہ عائشہ اور سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہما کے انتخاب کا بھی ذکر ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- خیبر میں پیداوار کا نصف حصہ طے کیا گیا تھا۔
- ازواج مطہرات کو مقررہ سالانہ حصہ دیا جاتا تھا۔
- بعد میں انہیں زمین اور پانی یا وسق میں سے اختیار دیا گیا۔
