صحیح مسلم حدیث ۳۹۶۴ - خیبر کی تقسیم اور ازواج مطہرات کو اختیار
خیبر کی تقسیم: ازواج مطہرات کو زمین کا اختیار دینے کی روایت
صحیح مسلم : ۳۹۶۴
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۹۶۴
وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَلَ أَهْلَ خَيْبَرَ بِشَطْرِ مَا خَرَجَ مِنْهَا مِنْ زَرْعٍ ، أَوْ ثَمَرٍ ، وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ ، وَلَمْ يَذْكُرْ : فَكَانَتْ عَائِشَةُ ، وَحَفْصَةُ : مِمَّنْ اخْتَارَتَا الْأَرْضَ وَالْمَاءَ ، وَقَالَ : خَيَّرَ أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُقْطِعَ لَهُنَّ الْأَرْضَ ، وَلَمْ يَذْكُرِ الْمَاءَ .
وہی جو اوپر گزرا مگر اس روایت میں یہ نہیں ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے زمین اور پانی کو اختیار کیا۔ بلکہ یہ ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیبیوں کو اختیار دیا چاہیں تو وہ زمین لے لیں اور پانی کا ذکر نہیں کیا۔
صحیح مسلم حدیث ۳۹۶۴ کا خلاصہ
یہ روایت پچھلی حدیث کے قریب ہے، مگر اس میں ایک فرق صاف بتایا گیا ہے۔ اس میں خیبر والوں سے نصف پیداوار پر معاملے کا ذکر ہے، یعنی جو زرع یا پھل نکلے اس میں حصہ طے تھا۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں ازواج مطہرات کو اختیار دینے کا ذکر ہے کہ چاہیں تو زمین لے لیں۔ اس روایت میں پانی کا ذکر نہیں آیا، اور یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ سیدہ عائشہ اور سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہما نے زمین اور پانی کو اختیار کیا تھا۔ اس لیے اس حدیث کو پڑھتے وقت متن کے فرق کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ خیبر کی تقسیم، مزارعت اور ازواج مطہرات کا اختیار اس روایت کے مرکزی نکات ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- روایات کے الفاظ میں فرق ہو تو اسی فرق کو محفوظ رکھنا چاہیے۔
- خیبر کے معاملے میں پیداوار کا حصہ طے کیا گیا تھا۔
- ازواج مطہرات کو زمین لینے کا اختیار دیا گیا، اس روایت میں پانی کا ذکر نہیں۔
