صحیح مسلم حدیث ۳۹۸۱ - قرض دار کی مدد اور نرمی
قرض دار کی مدد: مفلس شخص کے لیے صدقہ اور نرمی
صحیح مسلم : ۳۹۸۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۹۸۱
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ بُكَيْرٍ ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : أُصِيبَ رَجُلٌ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثِمَارٍ ابْتَاعَهَا ، فَكَثُرَ دَيْنُهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَصَدَّقُوا عَلَيْهِ " ، فَتَصَدَّقَ النَّاسُ عَلَيْهِ ، فَلَمْ يَبْلُغْ ذَلِكَ وَفَاءَ دَيْنِهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِغُرَمَائِهِ : " خُذُوا مَا وَجَدْتُمْ وَلَيْسَ لَكُمْ إِلَّا ذَلِكَ " .
ابو سعید خدری روایت:
ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں میوہ درخت پر خریدا اور اس پر قرض بہت ہو گیا (میوہ کے تلف ہو جانے سے یا اور کسی وجہ سے) تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو صدقہ دو۔“ لوگوں نے اسے صدقہ دیا تب بھی اس کا قرض پورا نہیں ہوا۔ آخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے قرض خواہوں سے فرمایا: ”بس اب جو مل گیا سو لے لو اب کچھ نہیں ملے گا۔“
صحیح مسلم حدیث ۳۹۸۱ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع قرض دار کی مدد اور قرض میں نرمی ہے۔ روایت میں ایک شخص کا ذکر ہے جس نے درخت پر لگا ہوا پھل خریدا، پھر نقصان کی وجہ سے اس پر قرض بڑھ گیا۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے لوگوں سے فرمایا کہ اس کی مدد کے لیے صدقہ کرو۔ لوگوں نے صدقہ دیا، مگر قرض پھر بھی پورا نہ ہوا۔ اس کے بعد آپ صلى الله عليه وسلم نے قرض خواہوں سے فرمایا کہ جو کچھ مل گیا ہے وہ لے لو، اس کے علاوہ تمہیں کچھ نہیں ملے گا۔ اس سے بات صاف ہوتی ہے کہ جب کوئی شخص واقعی تنگی میں ہو تو اس کے ساتھ سختی کے بجائے آسانی کا معاملہ کیا جائے۔ قرض معاف کرنے کی حدیث، مفلس کی مدد، اور قرض میں آسانی جیسے موضوعات اسی پیغام سے جڑے ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حقیقی تنگی میں قرض دار کی مدد کرنا نیکی کا کام ہے۔
- قرض خواہوں کو دستیاب مال پر اکتفا کرنے کی ہدایت دی گئی۔
- مفلس شخص کے معاملے میں سختی کے بجائے نرمی بہتر ہے۔
- لوگ مل کر ضرورت مند کی مدد کریں تو معاشرے میں آسانی پیدا ہوتی ہے۔
